گناہِ بے لذت

            انسان اپنی بشری کمزوری کے تحت بعض گناہ تو ایسے کرتاہے کہ جس میں اُسے کوئی جسمانی یا شہوانی لذت محسوس ہوتی ہے، جیسے شراب نوشی ، بدکاری ، حرام خوری وغیرہ ،جبکہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں بظاہر اسے کوئی جسمانی یا نفسانی لذت محسوس نہیں ہوتی، جب انسانی فطرت میں فساد آجائے تو وہ خیر اور شر میں تمیز کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اُسے شر ،خیر سے زیادہ پرکشش معلوم ہوتا ہے۔یہی کیفیت اُن اقوام کی رہی جن سے انبیائے کرام علیہم السلام کو واسطہ پڑا ، اُن کے پاس اپنے موقف کے حق میں واحد دلیل یہ ہوا کرتی تھی :’’ ہم نے اپنے آباؤاجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے‘‘، یعنی یہ شعار ہمیں وراثت میں ملا ہے اور اس سے چمٹے رہنا ہم پر لازم ہے ، چنانچہ ماضی کی امتوں اور مشرکینِ مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

            (۱)’’اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو یہی کام کرتے ہوئے پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے ،آپ کہیے: بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جن کا تمھیں علم نہیں ہے، (الاعراف:۲۸)‘‘،(۲)’’اور جب ان سے کہاجاتا ہے: آئواس دین کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول (کی شریعت )کی طرف آئو، تووہ کہتے ہیں: ہمیں وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، خواہ ان کے باپ دادا کسی چیز کا علم نہ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں، (المائدہ:۱۰۴)‘‘،پھر ایک مرحلہ آتا ہے کہ مُنَشِّیات کے عادی لوگوں کی طرح فحاشی وعریانی اُن کی فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے، اس میں ان کی فطرتِ خبیثہ کو لذت وسرور ملتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

            (۱) ’’لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا :بے شک تم بے حیائی کا کام کرتے ہو ، جو دنیا والوں میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا، کیا تم مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو اورراہزنی کرتے ہو اورتم اپنی (بھری) مجلس میں (عَلانیہ) برا کام کرتے ہو، (العنکبوت : 29)‘‘،(2) ’’بے شک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ (چیزوں کے انجام کو ) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ،(النور : 19) ‘‘، (3) ’’ وہ (شیطان) تمہیں برائی اور بے حیائی (کے کاموں ) کا حکم دیتا ہے (البقرۃ : 169) ‘‘،فطرت کے اسی بگاڑ کو حدیثِ پاک میں بیان فرمایا ہے:

            ’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ!مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجیے ،لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اسے ڈانٹ ڈپٹ کی اور کہا:رک جائو،لیکن نبی ﷺ نے فرمایا: میرے قریب آجاؤ، وہ نبی ﷺکے قریب جا کر بیٹھ گیا،نبی ﷺ نے اس سے پوچھا :کیا تم اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کو پسند کرو گے،اس نے کہا :اللہ کی قسم!یارسول اللہ!کبھی نہیں، اللہ کرے میں آپ پر قربان ہوجائوں، نبی ﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا: کیا تم اپنی بیٹی کے لیے بدکاری کو پسند کرو گے، اس نے کہا :یارسول اللہ!اللہ کی قسم! کبھی نہیں،اللہ کرے میں آپ پر قربان ہوجائوں،نبیﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے،پھر پوچھا :کیا تم اپنی بہن کے لیے بدکاری کو پسند کرو گے، اس نے عرض کی :یارسول اللہ !اللہ کی قسم!کبھی نہیں، اللہ کرے میں آپ پر قربان ہوجائوں، نبی ﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا :کیا تم اپنی پھوپھی کے لیے بدکاری کو پسند کرو گے،اس نے کہا : یارسول اللہ! اللہ کی قسم!کبھی نہیں،اللہ کرے میں آپ پر قربان ہوجائوں، نبی ﷺنے فرمایا:لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا :کیا تم اپنی خالہ کے لیے بدکاری کو پسند کرو گے،اس نے کہا :یارسول اللہ! اللہ کی قسم! کبھی نہیں،اللہ کرے میں آپ پر قربان ہوجائوں، نبیﷺنے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی خالائوں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے (سینے) پر رکھا اوردعا فرمائی : اے اللہ!اس کے گناہ کومعاف فرما، اس کے قلب کو (بدکاری کی خواہش سے ) پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما،اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی بھی بدکاری کی طرف توجہ نہیں کی، (مسند احمد:22211)‘‘۔

            الغرض یہ ہم نے اُن گناہوں کی مثالیںبیان کیں ،جن میں لوگوں کے لیے کوئی نہ کوئی کام ودہن یا شہوانی لذت یا جسمانی راحت ہوتی ہے، لیکن بہت سے گناہ ایسے ہیں کہ جن میں ایسی کسی لذت کا تصور نہیں ، سوائے اس کے کہ انسان کا دل ودماغ معصیت کے تصور سے آلودہ ہوجائے، اس کی بابت حدیث پاک میں ہے:’’حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا:بے شک اللہ نے ابنِ آدم پر اُس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے، وہ اسے لازماً پائے گا، پس آنکھ کا زنا(اجنبی عورت کو) دیکھنا ہے اور زبان کا زنا (فحش) باتیں کرنا ہے اور نفس (گناہ کی ) تمنا کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اُس کی تصدیق کرتی ہے اور تکذیب کرتی ہے، (بخاری:6243)‘‘، المستدرک للحاکم : 3751میں بعض محرکاتِ زنا کا اضافہ ہے اور وہ یہ ہیں:’’غیر محرم کو بوسا دینا، گناہ کی طرف دست درازی کرنا اور گناہ کی طرف چل کر جانا،سوائے اس کے کہ گناہ میں مبتلا ہونے سے بچ جائے‘‘۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:’’جولوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، ماسوا چھوٹے گناہوں کے ،بے شک آپ کا رب وسیع مغفرت والا ہے ،(النجم:32)‘‘۔یعنی اگرگناہِ کبیرہ کے ان محرِّکات سے آگے بڑھ کر صریح گناہ میں مبتلا نہ ہوا ،تو یہ صغیرہ گناہ ہے اور ان پر بھی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔

            نیز بعض گناہ ایسے ہیں ،جنھیں ہم گناہِ بے لذت سے تعبیر کرسکتے ہیں اور ہماری اکثریت ان میں مبتلا ہے، اُن میں سے چند یہ ہیں: غیبت، بہتان تراشی، دوسروں پر تہمت لگانا ،تمسخر واستہزاء، ظنِّ سُوء(بدگمانی) ، دوسروں کو برے ناموں سے پکارنا، جھوٹ ، چغل خوری، عیب جوئی ، طعنہ زنی اور دوسروں کے عیوب کے درپے ہونا، ان کی مذمت قرآن وحدیث میں نہایت شدت کے ساتھ آئی ہے ، مگر آج کل عوام تو کیا، ہمارے وطنِ عزیز کے سیاسی قائدین اور وقت کے حکمرانوں کا مَن پسند مشغلہ یہی ہے، اُن کے پاس اپنی مارکیٹنگ کے لیے کوئی ایسا سامان نہیں ہے جسے وہ عوام کے سامنے پیش کر کے انھیں اپنی طرف راغب کرسکیں اور اُن کے دلوں میں اپنے لیے قبولیت کی گنجائش پیدا کرسکیں ، سو اُن کا سارا گزارا اور سیاسی اثاثہ دوسروں کی توہین ، تحقیر ، اہانت اوربغض وعداوت پر ہے۔

            حضرت حسن بصری کا قول ہے:’’ تمہارے حکمراں تمہارے اعمال کا عکس ہیں‘‘،یعنی اگر تمہارے اعمال درست ہوں گے تو تمہارے حکمران بھی درست ہوں گے ، اگر تمہارے اعمال خراب ہوں گے تو تمہارے حکمران بھی خراب ہوں گے ۔

            اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’اور اسی طرح ہم بعض ظالموں پر اُن کے کرتوتوں کے سبب ظالم حکمران مسلّط کردیتے ہیں، (الانعام:129)‘‘۔اس کی تفسیر میں علامہ قرطبی لکھتے ہیں:’’فضیل بن عیاض نے کہا: جب تم دیکھوایک ظالم دوسرے ظالم سے انتقام لے رہا ہے تو رک جائواور تعجب انگیز نظروں سے دیکھو، حضرت ابن عباس نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے راضی ہوتا ہے تو اپنے بہترین بندوں کو اُن پر حاکم بنادیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اپنے بدترین بندوں کو اُن پر حاکم بنادیتا ہے،حدیث میں ہے:’’اور جو ظلم کے کاموں میں ظالم حکمران کا مددگار بنے گاتو اللہ تعالیٰ اُس پر ظالم حکمران کو مسلّط فرمادے گا، (تفسیر القرطبی، الانعام:129)‘‘۔

            احادیث مبارکہ میں ہے:(۱)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جیسے تم ہوتے ہو،ایسے ہی حکمران تم پر مسلّط کردیے جاتے ہیں، (شعب الایمان:7006)،(۲)ابوبکرہ بیان کرتے ہیں: نبیﷺ نے فرمایا: جیسے تم ہوتے ہو، تم پرویسے ہی حکمران مسلّط کردیے جاتے ہیں،(مسند الشہاب القضاعی:577)‘‘۔اس سے معلوم ہوا کہ ظلم میں حکمرانوں کا دست وبازو اور معاون ومددگار بننا بھی جرم ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر گرفت فرماتا ہے ،یہ آخرت میں عذاب کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور دنیا میں ظالمانہ نظامِ حکومت کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور جب ہم کسی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو اپنے احکام بھیجتے ہیں، سو وہ ان احکام کی نافرمانی کرتے ہیں، پھر وہ عذاب کے حکم کے مستحق ہوجاتے ہیں، سو ہم ان کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں، (بنی اسرائیل:16)‘‘،حدیث پاک میں ہے:

            ’’حضرت ابودردا بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(حدیث قدسی ہے:)اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ (یعنی میرے قبضۂ قدرت )میں ہیں، لہٰذا جب میرے (اکثر )بندے میری اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (ظالم ) بادشاہوں کے دلوں کو رحمت وشفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں، جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں بادشاہوں کے دلوں کو غضب ناکی اور سخت گیری کی طرف پھیر دیتا ہوں،اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ وہ (بادشاہ )ان کو سخت عقوبتوں میں مبتلا کرتے ہیں، اس لیے (ایسی صورت میں )تم اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے لیے بدعا کرنے میں مشغول نہ کرو، بلکہ (میری بارگاہ میں تضرّع وزاری کر کے اپنے آپ کو (میرے )ذکر میں مشغول کرو تاکہ میں تمہارے ان بادشاہوں کے شر سے تمہیں بچاؤں ،اس روایت کو ابونُعیم نے اپنی کتاب’’ حلیۃ الاولیاء ‘‘میں نقل کیا ہے ‘‘۔

            پس مقامِ افسوس ہے کہ دورِ حاضر کا حاکمِ وقت خیر کو تو فروغ نہیں دے سکا، البتہ قوم کے نوجوان طبقے کو اخلاقی زوال سے دوچار کردیا اور انھیں ایسا چسکا لگایا کہ دوسروں کی توہین وتذلیل کر کے انھیں راحت ملتی ہے اور اُن کے سربراہ کی نظر میں اُن کی توقیر اور مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے، اسی کے بارے میں کہا گیاہے: ’’خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ‘‘،یعنی وہ دنیا اور آخرت دونوں کے خسارے میںگیا ،ایسے لوگ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے حضور کہیں گے:’’اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہا مانا ، تو انھوں نے ہمیں (راہِ حق سے)بھٹکا دیا ، اے ہمارے رب! انھیں ہم سے دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت فرما، (الاحزاب: 67-68)‘‘۔

View : 122

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *