چند ضروری مسائل

        مسلمان کیسا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، خواہ اُس نے خدانخواستہ خود کشی کی ہو ،بہر حال اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ، لیکن مسلمانوں کے چند طبقات وہ ہیں، جن کے بارے میں حنفی فقہاء نے کہاہے:’’نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ انھیں غسل دیا جائے گا‘‘،وہ طبقات درج ذیل ہیں:

        (۱)حاکم برحق کے خلاف ناحق بغاوت کرنے والا ،جبکہ وہ بغاوت کے دوران لڑتے ہوئے مارا گیا ہو،(۲)مسلّح ہوکر ڈاکہ ڈالنے والا، جبکہ ڈاکہ زنی کے دوران ماراگیا ہو،(۳)عام گزر گاہوں پر لوٹ مار اور قتل وغارت کرنے والے اگرڈاکہ ڈالتے ہوئے مارے جائیں ،(۴)اپنے ماں باپ کو قتل کرنے والا،(۵)جولوگوں کو گلا گھونٹ کر مارتا ہو،(۶) جو شہر میں رات کو اسلحہ لے کر دہشت گردی کرتاپھرے،(۷)بعض کے نزدیک عصبیت پر لڑنے والا جب اسی لڑائی کے دوران مرجائے۔ یہ ان کی اہانت کے لیے اور دوسروں کو ایسے افعال کے ارتکاب سے روکنے اور تنبیہ کے لیے ہے۔

        اگر حاکمِ برحق کے خلاف مسلّح بغاوت کرنے والا یا مسلّح ڈاکہ زنی کرنے والا لڑائی کے دوران گرفتار ہوجائے اور بعد میں حاکمِ وقت اُسے قِصاص میں یاحَدِّمحاربہ میں یا تعزیرکے طور پر سزائے موت دے ، تو ایسے لوگوں کو غسل بھی دیا جائے گااور ان کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی ،اسی طرح اگر باغیوں اور ڈاکوئوں میں سے کوئی حاکمِ وقت کے قابو پانے کے بعد طبعی موت مرا ہو تو اسے بھی غسل دیا جائے گا اوراس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی  ۔

        مالکیہ یہ بھی کہتے ہیں : مبتدع اور عَلانیہ کبائر کا ارتکاب کرنے والے کی نمازِ جنازہ حاکم وقت یابڑا عالم نہ پڑھائے تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے عبرت کا سبب بنے اوروہ ایسے سنگین اعمال کے ارتکاب سے اجتناب کریں،اسی کو فقہاء نے ’’زجروتوبیخ‘‘ سے تعبیر کیا ہے،حدیث پاک میں ہے: ’’زید بن خالدجُہَنِیْ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے خیبر کے دن وفات پائی، صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھو،(یہ سن کر)لوگوں کے چہروں کا رنگ متغیر ہوگیا تو آپ ﷺنے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کے نام پر دیے ہوئے مال میں خیانت کی ہے، سو ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تویہود کادو درہم سے بھی کم مالیت کا ایک ہار اس کے پاس ملا ، (سنن ابودائود:2710)‘‘۔

         حنابلہ نے شہید اور ظلماً مقتول کی نمازِ جنازہ کی فرضیت کا استثناء کیا ہے،یہ اُن کے اکرام کے طور پر ہے ، کیونکہ نمازِ جنازہ اپنی اصل کے اعتبار سے میت کے لیے دعائے استغفار ہے اور شہید اگر مقروض نہ ہو تو وہ عنداللہ مغفور ہے۔

        جس نے خود کشی کی ہو ،حنفیہ اور شافعیہ کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق اُسے غسل بھی دیا جائے گا اور جنازہ بھی پڑھا جائے گا۔ اُس کا گناہ اگرچہ بہت بڑا ہے، لیکن اس نے زمین میں فساد برپا نہیں کیا ۔البتہ امام ابو یوسف کامذہب یہ ہے کہ اُس کی نمازِ جنازہ بھی نہ پڑھی جائے ، حدیث میں ہے : ’’رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک خود کشی کرنے والے کی میت لائی گئی تو آپ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی‘‘، مالکیہ کہتے ہیں: حاکم وقت یاموجودہ دور میں بڑا عالم بھی حَدّ یا قِصاص میں قتل ہونے والے کا جنازہ نہ پڑھے، دوسرے لوگ پڑھیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حدِّ زنا میں وفات پانے والے ماعِز اسلمی کا جنازہ خودنہیں پڑھایا، لیکن آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھنے سے منع بھی نہیں فرمایا۔

        خودکشی گناہِ کبیرہ ہے ، کیونکہ خود کشی کرنے والا اپنے ہاتھ سے اپنی جان کو تلف کرتا ہے، جبکہ یہ جان اُس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور انسان کو نعمتِ جسم وجاں کے استعمال کا تو حق ہے، لیکن اسے تلف کرنے کا حق نہیں ہے۔لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں ہوتی ،یہ سراسر غلط ہے ،اس لیے کہ مسلمان کیسا ہی گناہ گار ہو ،خواہ اس نے خودکشی کی ہو،اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ۔فی نفسہٖ خود کشی کبیرہ گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، بے شک اﷲتم پر مہربان ہے اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (جہنم کی)آگ میں ڈالیںگے اور یہ اﷲپر بالکل آسان ہے،(النساء :29-30)‘‘۔امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:’’یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے،(التفسیر الکبیر:ج:10،ص:57)‘‘۔

        نبی کریم ﷺنے بتایا ہے کہ خود کشی کرنے والے شخص کوجہنّم میں اُسی طرح کی سزا دی جائے گی جس طرح اس نے اپنے آپ کو قتل کیاہے،’’ آپﷺنے فرمایا: جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر قتل کیا ،وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ لڑھکتارہے گا اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا ،وہ جہنم کی آگ میں زہر ہاتھ میں پکڑ کر اُسے ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے کسی آ ہنی ہتھیار سے اپنے آپ کو قتل کیا ،وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اوروہ ہمیشہ اسے جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا، (بخاری:5442)‘‘۔

        بعض احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خودکشی کرنے والے شخص کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی،حدیث پاک میں ہے:’’رسول کریمﷺ کے پاس ایک ایسے شخص کا جنازہ لایا گیا جس نے اپنے آپ کو تیر سے قتل کر دیا تھا، تو آپ  ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں فرمائی،( مسلم:978)‘‘،اس حدیث کے پیشِ نظر بعض فقہائے کرام نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ خودکشی کرنے والے شخص کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ،لیکن جمہورعلماء کا نظریہ یہ ہے کہ مسلمان کیساہی گناہ گار ہو،خواہ اُس نے خودکشی کی ہو،اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ، نبی کریمﷺکا فرمان ہے:’’ہر مسلمان پر نمازِ جنازہ پڑھنا واجب ہے،خواہ وہ نیک ہو یا بَد،اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو،( ابودائود:2533)‘‘۔

        ’’ حدیث میں جویہ بیان ہو اکہ نبی کریمﷺنے خودکشی کرنے والے شخص کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی، آپ ﷺکا یہ عمل اس لیے تھا تاکہ لوگ اس فعلِ حرام سے دور ر ہیں،اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی اس کاجنازہ نہیں پڑھا تھا اورجنازے کے بغیر اس کی تدفین کردی گئی تھی۔حضرت عمر بن عبدالعزیزاور امام اوزاعی کا مذہب یہ تھا کہ خودکشی کرنے والے شخص کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی،جبکہ حضرات حسن بصری،ابراہیم نخعی ،قتادہ،امام مالک ،امام ابوحنیفہ ،امام شافعی اور جمہور اہلِ علم کا مذہب یہ ہے کہ خودکشی کرنے والے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اورحضور کا خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہ پڑھانازجروتوبیخ کے لیے تھا،لیکن صحابہ کرام نے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی ۔نبی کریمﷺپہلے مقروض کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے تھے تاکہ لوگ قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول سے اجتناب کریں ، لیکن آپﷺنے اپنے اصحاب کو مقروض کاجنازہ پڑھنے کاحکم فرمایا۔قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں: جملہ اہلِ علم کامذہب یہ ہے کہ ہر مسلمان شخص کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ،خواہ اُس پر حد جاری کی گئی ہویا اُسے رجم کیا گیا ہویا اُس نے خودکشی کی ہو یا وہ ولد الزنا ہو۔امام مالک اور بعض دیگراہلِ علم نے کہا ہے : لوگوں کو فسق وفجور سے باز رکھنے کے لیے دینی پیشوائی پر فائز حضرات کو چاہیے کہ وہ فُسَّاق وفُجَّار کاجنازہ نہ پڑھیں،(المنہاج شرح صحیح مسلم ، ج:7،ص:47)‘‘۔

(۲)بعض لوگ شوہر کو دباؤمیں رکھنے یااپنی ناموری کے لیے بھاری مہر مقرر کرتے ہیں ، اس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ مہر ادا تو کرنا نہیں ہے، یہ سوچ غیر شرعی ہے ، شریعت نے مہر ادا کرنے ہی کے لیے مقرر کیا ہے اور جب تک مہر ادا نہ ہو، وہ دَین (واجب الوصول ) کہلاتا ہے۔مہر بیوی کا حق ہے اور یہ نکاح کے واجبات میں سے ہے ،مہربیوی کے احترام کی علامت ہے ،اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ اور تم بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دیا کرو ،(النساء: 4)‘‘۔حتی کہ اگر کوئی شخص مہر نہ دینے کی شرط پر نکاح کر لے، تب بھی عورت مہر مثل کی حق دار ہوگی اور امام مالک کے نزدیک اس صورت میں نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔

        شریعت کا اصول یہ ہے کہ لڑکے کی مالی حیثیت اوروقت و حالات کے مطابق باوقار اور مناسب مہر مقرر کیا جائے، یعنی نہ اتنا زیادہ ہو کہ لڑکاادا ہی نہ کرسکے اورنہ اتنا کم ہو کہ لڑکی والوں کے لیے خِفّت کا باعث بنے ۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مہر بھی دوسرے قرضوں کی طرح ایک قرض ہے۔یہ سوچ غلط ہے کہ مہرکی ادائی شوہر کی وفات یا بیوی کو طلاق کی صورت میں ہی لازم ہوتی ہے،یہ بات درست نہیں ہے، مہر کا طلاق یا موت سے کوئی تعلق نہیںہے، نکاح کے بعدازدواجی تعلق قائم ہوتے ہی بیوی کو مہر اداکرنابہرحال واجب ہو جاتا ہے اوربہتر یہ ہے کہ مہر نکاح کے وقت ہی ادا کر دیا جائے۔ عہدِ صحابہ اور بعد کے ادوار میں نکاح کے وقت ہی مہر اداکرنے کا معمول تھا، یہ روایت اسلامی عربی معاشرے میں اتنی راسخ تھی کہ فقہاء نے لکھا ہے :’’ اگر کوئی عورت دعویٰ کرے کہ شوہر کے ساتھ اُس کی خَلوت ہوچکی ہے، اس کے باوجود شوہر نے مہر ادا نہیں کیا ، تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے ،کیونکہ یہ ظاہرِ حال کے خلاف ہے‘‘۔ بدقسمتی سے اب ہمارے ہاں نکاح کے وقت مہر ادا کرنے کا رواج نہیں رہا اور نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اگر کسی عورت کو اس کا مہر ادا کردیا جائے تو وہ خوف زدہ ہوجاتی ہے کہ کہیں شوہر کا ارادہ طلاق دینے کا تو نہیں ہے۔

        بعض صورتوں میں مہر ادا کرنے کی نیت ہی نہیں ہوتی، محض رسمی طور پر مہر مقرر کر لیا جاتا ہے، رسول اﷲﷺکاارشاد ہے:’’جس نے کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں یہ ہے کہ وہ مہر ادانہیں دے گا، تو اس نے دھوکہ بازی کی، اگر اس نے مرتے دم تک مہرادا نہیں کیا، تو قیامت کے دن اﷲتعالیٰ سے ایک زانی شخص کی حیثیت سے اس کی ملاقات ہو گی،(المعجم الاوسط:1851)‘‘،مہر اداکرنے کو غیر اہم سمجھنے والوں کے لیے یہ بہت بڑی وعید ہے ۔اس لیے نکاح کے وقت پوری دیانت داری کے ساتھ مہر ادا کرنے کی نیت ہونی چاہیے اور نکاح کے بعد مقرر ہ مہر بیوی کواداکردینا چاہیے ،افسوس کی بات یہ ہے کہ شادی کے موقع پر غیر شرعی رسوم پر تو پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، لیکن مہر،جو شریعت کا تقاضا ہے، ادا نہیں کیا جاتا۔سو ہم نے شریعتِ الٰہی پر شریعتِ رسوم کوغالب کردیا ہے۔

View : 82

Leave a Comment

Your email address will not be published.