فلسفہ ٔ دعا(حصہ دوم)

            جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں :

چوں فنا اندر رضائے حق شود                                          بندۂ مومن قضائے حق شود

            یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہوجاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے ، وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر ِ فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں : ’’میں تمہارے اور اللہ کے درمیان ہوں ، میرے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں ہے اور یہ کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم قرار دیا ہے کہ میں تمہاری دعاؤں کو اس تک پہنچنے سے روکوں، سو تم اپنی شکایات مجھ تک پہنچاؤ اور جس کی رسائی مجھ تک نہ ہو تو وہ میرے مقررہ حاکموں سے رابطہ کرے ہم اُس کا حق اُس تک پہنچا دیں گے ‘‘، انہوں نے علامہ اقبال کا یہ شعر بھی لکھا:

ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ                                         غالب و کارآفریں ، کار کُشا ، کارساز

             یہاں تک میں نے شاہکارِ رسالت سے پرویز صاحب کی عبارت کا خلاصہ پیش کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ ان کا پورا مفہوم اد ا ہو جائے۔ اس میں انہوں نے دعا کا فلسفہ اور حکمت اپنی بصیرت کے مطابق تکوینی انداز میں یعنی ماتحتَ الاسباب بیان کی ہے ، جس کی روح یہ ہے کہ بندوں کی حاجات بندوں تک پہنچ جائیں اور وہ ان کا مداوا کریں ۔ ہماری دینی فہم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا بندے کی براہِ راست التجا ہے ، فریاد ہے اور انصاف کی طلب ہے۔اسی طرح گناہوں سے استغفار اور معافی کی التجا بھی دعا ہے ، مشکلات سے نجات اور سلامتی کی طلب بھی دعا ہے ۔

            جنابِ یاسر پیر زادہ لکھتے ہیں:

            ’’دراصل دنیاوی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، دنیا کے معاملات دنیا کے اصولوں پر چلتے ہیں ، یورپ نے اتحاد کے لیے کلیسائوں میں دعائیں مانگیں اور نہ اسرائیل نے عربوں کو شکست دینے کے لیے فقط دعائوں پر انحصار کیا، آج امریکا اس وجہ سے سپر پاور نہیں کہ وہاں پادری ہر اتوار کو چرچ میں جاکر امریکا کی سربلندی کے لیے دعائیں کرتے ہیں، بلکہ امریکا کی طاقت انہی اصولوں کو اپنانے کی وجہ سے ہے جو دنیا میں طاقت کے حصول کے لیے اپنائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا جن اصولوں کے تحت چلتی ہے ، اگر وہ مذہب کے تابع ہوتے تو کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوتی، کوئی بچہ اپاہج پیدا نہ ہوتا، کوئی شخص بھوکا نہ سوتا، کوئی بے گناہ جنگ میں نہ مارا جاتا، کسی کمزور کی عزت نیلام نہ ہوتی، کسی زلزلے میں دودھ پیتے بچے ہلاک نہ ہوتے، یہ دنیا طبعی اور غیر طبعی قوانین کا مجموعہ ہے، جب ہم بے بس ہوکر خدا سے دعا کرتے ہیں تو دراصل اس سے ان قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں ، جو ممکن نہیں ، کیونکہ اگر ایسا ہونا شروع ہوجائے تو پھر سردرد کی گولی تو ایمان والوں پر اثر کرے گی مگر پستول کی گولی ایمان والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی، ہم سمجھتے ہیں کہ دعائوں سے دنیاوی مسائل حل ہوسکتے ہیں، پیغمبروں کی فضیلت اور اُن کی دعا کی بات الگ ہے، جسے ہم گناہگار نہیں پاسکتے، جبکہ مذہب کا یہ موضوع ہی نہیں‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیں:

            ’’یہ کائنات کچھ آفاقی قوانین کے تحت چل رہی ہے، ان قوانین کے مجموعے کو ہم طبعی قوانین کہتے ہیں، آج سے ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے جب یہ کائنات وجود میں آئی تو ساتھ ہی یہ طبعی قوانین بھی وجود میں آگئے، یہ قوانین کائنات میں یکساں انداز میں لاگو ہیں‘‘۔

            ہمیں جنابِ یاسر پیر زادہ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا اور اس کے تکوینی نظام کے لیے قوانینِ فطرت بھی مقرر فرمائے ، لیکن کیا خالق کا اس کے بعد کائنات سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے، کیا خالق کی مشیت اب بھی کائنات میں کارفرما نہیں ہے یا معاذ اللہ! وہ معطّل ہوگیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: ’’اور سورج مقررہ راستے پر چل رہا ہے، یہ بہت غالب، بے حد علم والے کا بنایا ہوا نظام ہے اور ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کی ہیں حتیٰ کہ وہ لوٹ کر کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے، نہ سورج کی مجال کہ وہ (چلتے چلتے )چاند کو پالے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور ہر ایک(سیارہ) اپنے اپنے مدار میں تیر رہاہے، (یٰس: 38-40)‘‘اورفرمایا: ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں، (الرحمن:5)‘‘۔

            جنابِ یاسر پیر زادہ نے عاجز مسلمانوں پر طنز فرمایا ہے کہ وہ دعا کو ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، جبکہ قوانینِ فطرت میں دعا کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ دعا کی تاثیر ہے، پھر انہوں نے قوموں کے عروج وزوال کے حوالے دیے اور آج کل مغربی قوتوں کو جو غلبہ حاصل ہے، وہ کسی دعا کے نتیجے میں نہیں ہے ، بلکہ ان کی اپنی محنت، صلاحیت ، اہلیت اور قابلیت کے نتیجے میں ہے،اس کا توڑ دعائوں سے نہیں ہوسکتا، کیونکہ قوانینِ فطرت اٹل ہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ قوانینِ فطرت فاطِر پر حاکم نہیں ہیں کہ وہ قادرِ مطلق ہے، جب چاہے ان کو معطّل فرماسکتا ہے، ان سے ماورا اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے، جیسے آگ کا کام جلانا ہے، مگر جب اس کا حکم ہو ا تو وہی آگ ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی بن گئی تو اُس وقت قانونِ فطرت کی کارفرمائی کہاں گئی۔ پھر انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے خلطِ مبحث سے کام لیا اورمثالیں دیتے وقت قانونِ فطرت یا طبعی قانون اورتشریعی قوانین کو خلط ملط کردیا۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ قوموں کے عروج وزوال کا تعلق قوانینِ فطرت سے نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے تشریعی نظام سے ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ کسی استحقاق کے بغیر کلمہ پڑھنے والوں کو ساری ملتِ کفر پر غالب کردے گا، ایسا ہرگز نہیں ہے ،اُس نے غلبے کے لیے ’’مومنِ کامل ‘‘ہونے کی شرط رکھی ہے اور اس کا ایک جامع مفہوم ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’کتنے ہی چھوٹے گروہ ایسے ہیں جو اللہ کے اذن سے بڑے گروہوں پر غالب آگئے، (البقرہ:249)‘‘، جیساکہ آپ نے اسرائیل کی مثال دی ہے اورکسی حد تک طالبانِ افغانستان کی مثال بھی دی جاسکتی ہے کہ مادّی طاقت اورجدید اسلحے کی اہمیت مسلّم ہے ، لیکن عزیمت واستقامت اور قوتِ ایمانی بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔

            جنابِ پیر زادہ صاحب !کس نے کہا ہے کہ دعا پر اکتفا کرو اور علم وعمل کے میدان میں اپنی اہلیت ثابت نہ کرو، ضرور کرو ، اس کے بغیر چارۂ کار نہیں ہے ، لیکن اس سے دعا کی نفی یا دعا کی بے وقعتی کیسے ثابت ہوگئی ، حدیث پاک میں ہے: ’’حضرت سعد نے عرض کی: یارسول اللہ! یہ بتائیے کہ ایک شخص اپنی قوم کی حمایت کرتا ہے اور دشمن کے حملے سے اپنے لوگوں کا دفاع کرتا ہے، کیا اس کا بھی اس مالِ غنیمت سے اتنا ہی حصہ ہوتا ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے ! اے سعد کی ماں کے بیٹے! تمہاری جو مدد کی جاتی ہے اور تمہیں جو رزق دیا جاتا ہے، وہ صرف تمہارے ضعفاء کی وجہ سے دیا جاتا ہے، (مصنف عبدالرزاق:9752)‘‘۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص جو سمجھتے تھے کہ ان کے لیے فضیلت ہے، اس سے ان کی یہ مراد نہیں تھی کہ ان کا مرتبہ اور شرف دوسروں سے افضل ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ جو مسلمان( میدانِ جنگ میں)دوسرے مسلمانوں سے زیادہ بہادری کے جوہر دکھائیں اور زیادہ دادِ شَجاعت دیں، آیا ان کا حصہ کمزور مسلمانوں سے زیادہ ہوگا یا نہیں، تو نبی ﷺ نے اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ کمزور مسلمانوں کی دعائوں کے سبب سے ہی تم کو فتوحات حاصل ہوتی ہیں، (فتح الباری،ج:4،ص:296)‘‘۔

            اب اس کا کوئی گیج یا پیمانہ ہمارے پاس نہیں ہے کہ آپ کو یہ ثابت کرسکیں کہ کسی قومی مہم میں عاجز اور کمزور لوگوں کی دعائوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت شاملِ حال ہوگئی ۔ جس طرح دوائیں اور طبیب اسباب میں سے ہیں اور یہ اسباب کسی کے حق میں مؤثر ہوجاتے ہیں اور کسی کے حق میں نہیں ہوپاتے، کوئی اسپتال سے صحت مند ہوکر گھر جاتا ہے اور کسی کی میت تابوت میں جاتی ہے، اگر شفا بالذات دوا اور طبیب میں ہوتی تو سب کے سب صحت یاب ہوتے اور کوئی بھی موت سے ہمکنار نہ ہوتا، لیکن اس کے سبب نہ کسی نے علاج چھوڑا ہے اور نہ کوئی اس کا مشورہ دیتا ہے، اسی طرح دعائیں بھی اسباب میں سے ہیں اور جب اللہ کی مشیّت شاملِ حال ہوتی ہے تو دعا کا فیض بھی شامل ہوجاتا ہے۔ دعا اور دوا میں فرق یہ ہے کہ اگر دوا نے فائدہ نہ پہنچایا تو پیسے ضائع ہوئے ، لیکن دعا چونکہ بجائے خود ایک نیکی اور عبادت ہے، اس لیے وہ ضائع نہیں ہوتی، اس کا اجر کسی نہ کسی صورت میں دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جاتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، بشرطیکہ مومن کو اس کے وعدے پر یقین ہواور اگر کسی کے نزدیک اُس کی عقل ودانش ہی حتمی معیار ہے، تو ہم اس کے لیے ہدایت وخیر کی دعا کرسکتے ہیں ۔ پس مادّی اسباب کو اختیار کرنا شریعت کا حکم ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’اور اُن (دشمنوں ) کے لیے جتنا تمہارے بس میں ہے،طاقت تیاررکھو اور (سرحدوں پر جنگ میں کام آنے والے)گھوڑوں کو باندھے رکھوتاکہ اللہ اور تمہارے دشمن پر تمہاری دھاک بیٹھی رہی، (الانفال:60)‘‘۔

            آج کل گھوڑے جدید آلاتِ حرب سے استعارہ ہیں اور اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہر وقت دشمن کے مقابلے میں ریڈ الرٹ اور ہائی الرٹ رہو، یعنی حملہ کرنے اور دشمن کے حملے کے دفاع کے لیے بالکل تیار حالت میں رہو، عہدِ رسالت مآب ﷺ میں ریاستیں اور ریاستی ادارے منظم نہیں تھے، لہٰذا جو بھی لڑنے کے قابل ہوتے تھے، انہیں اپنے گھوڑے، تلوار اور تیرکمانوں کے ساتھ ریڈ الرٹ رہنا پڑتا تھا کہ جب بھی اچانک بلاوا آئے تو وہ چل پڑیں، آج کل یہ ذمے داری مسلّح افواج پر ہے اور قوم کی ذمے داری ہے کہ جو مدد انہیں عوام سے درکار ہو، وہ دل وجان سے فراہم کریں اور اللہ سے اُن کی کامیابی اور سرخروئی کے لیے دعائیں کرتے رہیں، آپ دانشور لوگ ہیں، آپ کی سوچ بہت بلند ہے، ہم عاجز لوگوں کے پاس یہی چارۂ کار ہے، لیکن انسانوں پر قوانینِ فطرت حاکم نہیں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے تشریعی قوانین حاکم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت میں نجات کا فیصلہ کسی کی صورت پر نہیں ہوگا، یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ لنگڑا تھا، لُنجا تھا، بینائی سے محروم تھا یا کسی اور جسمانی ضُعف کا شکار تھا، یہ دیکھا جائے گا کہ اُس نے اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرّم کے احکام کی پابندی کی یا نہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے تشریعی قوانین کے معیار پر مسلمانوں کو پرکھیںاوراپنی یونیورسٹیوں کوعالمی معیار پرعلم وتحقیق کا مرکز بنائیں، یہ چھوڑیں کہ چرچ میں دعائیں ہوتی ہیں یا نہیں یا یہ کہ دعا ہو یا نہ ہو، گولی بہر حال نشانے پر جاتی ہے، لیکن حضور! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نشانہ خطا ہوجاتا ہے اور کبھی دشمن کا آتشیں اسلحہ فضا میں پھٹ جاتا ہے،ہماری خبر لیتے رہیں، کوئی حرج نہیں ہے۔

View : 18

Leave a Comment

Your email address will not be published.