شگون (حصہ اول)

                لُغت میں اِس کے معنیٰ ہیں : ’’اچھی یا بری فال نکالنا ‘‘۔ہندومعاشرت کے اثرات کے تحت ہمارے ہاں نیک وبَد شُگون کی بہت سی روایات چلی آرہی ہیں ۔صَفرالمُظفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے ،ظہورِ اسلام سے پہلے اہلِ عرب میں بھی اِس مہینے کے بارے میں بہت سی روایات موجود تھیں ،بعض لوگ ماہِ صفر کی طرف بیماری یامالی نقصان یا مصیبتوں کے نزول کی بدشُگونی منسوب کرتے تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے اِن تمام باتوں کی نفی فرمائی ،اِس حوالے سے کُتبِ احادیث میں متعدد روایات ہیں ،ہم اُن تمام روایات کو یک جا کرکے درج کررہے ہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ بدشُگونی کی کوئی حقیقت نہیں ،کوئی مرض اپنی ذات سے مُتعدی نہیں ہوتا،اُلّو کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ،ماہِ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ،ستاروں کے طلوع ہونے کا انسانوں کی تقدیر میں کوئی دخل نہیںاور بھوت پریت کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔

                قرآن مجید میں بد شگونی کے معنیٰ میں ’ ’نَحس‘‘ اور ’’طِیَرَہ‘‘ کے کلمات آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (۱):’’ بے شک ہم نے اُن پر تُند وتیز مسلسل چلنے والی آندھی منحوس دن میں بھیجی ،جو اُن کو اٹھاکر اِس طرح مارتی تھی جیسے وہ جڑسے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں،(القمر :19-20)‘‘،(۲):’’ سوہم نے (اُن کے )منحوس دنوں میں اُن پر خو ف ناک آواز والی آندھی بھیجی تاکہ ہم اُنہیں دنیاکی زندگی میں ذلّت کے عذاب کا مزا چکھائیں اور آخرت کا عذاب سب سے زیادہ رُسواکُن ہے ،(حم ٓ  السجدہ:16)‘‘۔(۳):’’ اور رہے عاد ،تو اُن کو گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیاگیا ،(اللہ نے) اِس آندھی کو اُن پرمسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مُسَلّط رکھا ،پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گر گئے ،(الحاقّہ:6-7)‘‘۔(۴):’’پس جب اُن پر خوشحالی آتی تو وہ کہتے یہ ہماری وجہ سے ہے او راگر اُن پر کوئی بدحالی آتی ،تووہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اُن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے ، سنو!اِن کافروں کی نحوست اللہ کے نزدیک ثابت ہے ،لیکن اِن میں سے اکثر نہیں جانتے ،(اعراف:131)‘‘،(۵):’’ کافروں نے (رسولوں سے)کہا: ہم تم سے براشگون لیتے ہیں اوراگر تم باز نہ آئے توہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تم کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا ،اُنہوںنے کہا :تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہے ،کیا تم اس بات سے بدکتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے،بلکہ تم حد سے گزرنے والے ہو،(یس:18-19)‘‘،(۶)’’اوربے شک ہم نے ثمود کی طرف اُن کے ہم قبیلہ صالح کو یہ پیغام دے کربھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ دوفریق بن کرجھگڑنے لگے، صالح نے کہا: اے میری قوم ! تم بھلائی کی طلب سے پہلے برائی کی طلب میں کیوں جلدی کر رہے ہو، تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے، انھوں نے کہا: ہم آپ اور آپ کے ساتھیوں کو نحس سمجھتے ہیں،انھوں نے کہا: تمہاری نحوست اللہ کے پاس ہے ،بلکہ تم لوگ فتنے میں مبتلا ہو، (النمل:45-47)‘‘۔

                نحوست یا بدشگونی کے لیے ابتدائی تین آیات میں’’نَحس‘‘ کا کلمہ آیاہے، اِن آیات میں قومِ عاد پر عذاب کے دنوں کو منحوس کہاگیا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ قومِ عادپر عذاب بدھ کے دِن آیاتھا اوروہ اِس دن کومنحوس کہتے تھے ،اس کی تفسیر میںعلامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں : ’’ میں کہتاہوں کہ تمام ایام برابر ہیں اور بدھ کا دن نحوست کے لیے خاص نہیں ہے ،یعنی اُن پر عذاب اُن کی سرکشی اوربغاوت کی وجہ سے آیانہ کہ بدھ کے دن کی وجہ سے اورہر گزرنے والی ساعت کسی شخص کے لیے اچھی اور مبارک ہوتی ہے اوروہی ساعت دوسرے شخص کے لیے بری اور منحوس ہوتی ہے اور ہر دن کسی شخص کے لیے خیر اور دوسرے شخص کے لیے شَر ہوتاہے،یعنی ایک ہی دِن کہیں جنازہ اٹھتاہے اورکہیں شادیانے بج رہے ہوتے ہیں،پس نحوست یا ناخوشگوار ہونے کاتعلق زمانے سے نہیں ہوتا ،بلکہ افراد کے اعتبار سے ہوتاہے ۔ اگر کسی شخص پر کوئی عذاب یا کوئی مصیبت نازل ہونے کی وجہ سے بدھ کے دن کو منحوس مان لیا جائے تو ہردن بلکہ ہرساعت میں کسی نہ کسی شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت اوربلا نازل ہوتی رہتی ہے ،پھر اِس طرح توتمام ساعتیں نحس قرار پائیں گی ،(روح المعانی ، جلد 27، ص:86)‘‘۔

                اگلی تین آیات میں بدشگونی کے لیے ’’تَطَیُّر‘‘اور ’’طَآئِر‘‘کے کلمات آئے ہیں،سورۃ الاعراف کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کی طرف نحوست کی نسبت کی ،پس انھیں بتایا گیا کہ تمہاری نحوست ، تمہاری بداعمالیوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے یہاں مُقدر ہے۔ یٰس:18-19میں بتایا گیا کہ اہلِ انطاکیہ کی طرف ہدایت دینے کے لیے جو رسول بھیجے گئے ، انھوں نے ان کو جھٹلایا اور کہا:’’ ہم تم سے برا شگون لیتے ہیں ‘‘، اسی طرح النمل:45-47میں قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی طرف نحوست کی نسبت کی، الغرض یہ ماضی کے کفار کا وتیرہ تھا کہ وہ ہدایت قبول کرنے کے بجائے انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کو نحس قرار دیتے تھے۔

                حدیث پاک میں فرمایا : ’’ لَاطِیَرَۃَ ‘‘ یعنی کسی خاص مقام ،دِن یا وقت کے حوالے سے شریعت میں نحوست یا بدشگونی کا کوئی تصور نہیں ہے ،بلکہ ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:’’جوشخص کسی چیز سے بدشُگونی لے کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا ،اُس نے شرک کیا ‘‘۔شرک کی صورت یہ ہے :کسی کا یہ عقیدہ ہوکہ اِس چیز یا واقعے کا ظہوراپنی ذات میں ناکامی کا سبب ہے اور اِس بناپر وہ اپنا پروگرام ملتوی کردے ،تو گویا اُس نے اعتقادی طورپر شرک کا ارتکاب کیاکہ غیر اللہ کو مؤثر بالذات مانا ،جیسے ہمارے ہاں بلی کے راستہ کاٹنے کو بھی نحس سمجھاجاتاہے۔

                اِس کے برعکس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اسلام میں بدشگونی تونہیں ہے ،(البتہ )نیک فال لینا بہترہے ،صحابہ نے پوچھا :’’ نیک فال کیاہے ؟، آپ ﷺ نے فرمایا:ہروہ اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے ،(صحیح بخاری:5754)‘‘۔

                چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بعض مواقع پر بعض امور کو نیک شگون قرار دیا،اس کے معنی یہ ہیں: ’’کسی اچھی علامت کے نمودار ہونے پر اُسے نیک فال قرار دیا جاسکتا ہے ‘‘، احادیث مبارکہ سے اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:

                جب صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش مکہ کے سفارتی نمائندے کے طور پر سہیل بن عَمرومذاکرات کے لیے آیا ،تو آپ ﷺ نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے،صحابۂ کرام نے بتایا:اس کا نام سہیل ہے، سہیل کا مادّہ ’’سہل‘‘ ہے اور اس کے معنی ہیں: آسانی،چنانچہ آپ ﷺ نے سہیل کے نام سے نیک فال لیتے ہوئے فرمایا:’’ اللہ نے تمہارا کام آسان کردیا ہے ‘‘ ۔اِسی طرح سفرِ ہجرت کے موقع پر کفارِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ  کو گرفتارکرنے والے کے لیے سو اونٹ انعام مقرر کیاتھا ،بُرَیْدَہ ٔ اَسْلَمِیْ اس انعام کی لالچ میں آپ کے تعاقب میں نکلا اور تلاش کرتے کرتے آپ کے قریب جاپہنچا،حضرت ابوبکر صدیق نے خطرے کو بھانپا اور آپ ﷺ کواس خطرے کی جانب متوجہ کیاکہ ایک شخص ہمیں نقصان پہنچانے کی غرض سے ہمارے قریب آپہنچا ہے،آپ ﷺ نے اس سے پوچھا:تمہارا نام کیا ہے،اُس نے کہا: بُرَیدہ،آپ ﷺنے فرمایا: ’’اللہ نے تمہارے لیے ٹھنڈک کا سامان پیدا کردیا ہے‘‘،بُرَیدہ کا مادّہ ’’بَرد‘‘ہے اور اس کے معنی ہیں: ٹھنڈک، پھر آپ ﷺنے اُس سے پوچھا : تمہارا خاندان کیاہے ؟،اُس نے کہا:’’بنواسلم‘‘ ،اِس پرآپ  ﷺ نے فرمایا:ہمیں سلامتی مل گئی ‘‘،کیونکہ اسلم کے معنی ہیں:’’خطرات سے محفوظ ہونا‘‘،

 مادّہ’’ سَلَم ‘‘ہے ،پھرآپ ﷺنے پوچھا : تمہارا قبیلہ کیا ہے،اُس نے جواب دیا : بنوسہم ،آپ ﷺنے فرمایا: تمہارا تیر نکل گیا (سہم کے معنیٰ ہیں :تیر)،چنانچہ بُرَیدہ اور اُن کے سب ساتھی اسلام لے آئے ،(سُبُل الھدی والرشاد ،جلد9،ص:356)‘‘۔

                رسول اللہ ﷺ اچھے ناموں کو پسندفرماتے تھے اور بعض مواقع پر آپ نے ناموں کو تبدیل فرمایا ۔آپ نے ’’بَرّہ‘‘ نام کو تبدیل کرکے زینب اور جویریہ رکھا ، اَصرم کو بدل کر زُرعہ رکھا ۔اِسی طرح آپ ﷺ نے ’’عاص،عزیز ،عَتَلہ ،غُراب ،حُباب اور شِہاب‘‘ ناموں کو بھی بدلا ۔ سعید بن مُسیّب نے بتایاکہ اُن کے دادا کا نام ’’حَزن‘‘ تھا (حزن کے معنی ہیں: سختی)، وہ حضور کے پاس آئے ،آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا نام سَہل ہے ،اُنہوں نے کہا : میں اپنے باپ کے رکھے ہوئے نام کو نہیں بدلوں گا، چنانچہ اِسی کا اثرہے ہمارے خاندان کے مزاج میں سختی چلی آرہی ہے ۔

                رسول اللہﷺ کا یہ فرمان کہ ’’صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘،اِس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اِس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اِس مہینے میں شادی نہیں کرتے ،شریعت کی رُوسے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں ۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا :’’ صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول اللہ ﷺ صحت یاب ہوئے تھے ، لہٰذا وہ اِس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں ،بعض لوگ اِس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں ‘‘۔ اُنہوں نے جواب دیا :آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ،بلکہ جس مرض میں آپ کا وصال ہوا ،اُس کاآغاز صفر 11؁ھ کے آخری بدھ کے دن ہواتھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی ا بتلا بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی‘‘۔

                رسول اللہ ﷺ کایہ فرمان کہ’’ ستارے کی کوئی اصل نہیں ‘‘،اِس کے معنی ہیں: بعض نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں یااُن کا کسی خاص برج میں ہونا انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتا ہے یا یہ کہ فلاں کا ستارہ یہ ہے اور برج یہ ہے اور اُس کا دن یاسال اِس طرح گزرے گا ،یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیں، علامہ اقبال نے کہاہے :  

ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبردے گا؟

وہ خود فراخیٔ ِ افلاک میں ہے ،خوار وزبوں

                یعنی ستارہ اپنی مرضی سے حرکت نہیں کرسکتا،وہ خود قادرِ مُطلق کے حکم کا پابندہے اور اُس کی مجال نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کرے یا بال برابر اِنحراف کرے ،فرمایا:’’سورج کی مجال نہیں کہ وہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ،(یس:40)‘‘ ، کیونکہ:’’سورج اور چاند اللہ کے نظم کے پابند ہیں،(الرحمن:5)‘‘۔(جاری ہے۔۔)

View : 45

Leave a Comment

Your email address will not be published.