شمائلِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حصہ اول)

                دنیا بھر کے درختوں سے قلم بنادیے جائیں،سمندروں اوردریاؤں کے پانیوں کوروشنائی میں تبدیل کردیاجائے اوربنی نوعِ انسان کے ساتھ جنّات بھی مل جائیںاور سب مل کر مصطفی کریمﷺ کے حسن وجمال کی عظمتوں اورتابانیوںکو احاطۂ تحریر میں لاناچاہیں،توقلم فنا ہوجائیں ،روشنائیاں ختم ہوجائیں اورخود لکھنے والے بھی لکھتے لکھتے راہیِ ملکِ عدم ہوجائیں، مگریہ ممکن نہیںکہ مصطفی کریم ﷺ کے جمالِ بے مثال اورآپ کی سیرت وصورت کے کمالِ حُسن کاحق ادا ہوسکے ۔نہ کسی قلم میں اتنی سکت ہے کہ آپ کے حسن وجمال کااحاطہ کرسکے اورنہ کسی زبان میں یہ فصاحت وبلاغت کہ آپ کے جمال کو بیان کرنے کا حق ادا کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم ﷺکے ظاہر وباطن کو وہ عظمتیں اور وسعتیں عطاکی ہیں کہ کسی بشر کے لیے ان کی حقیقت تک رسائی ممکن نہیں ،جس طرح آپ کا حسنِ سیرت سراپا معجزہ ہے ،اسی طرح آپ کا پیکرِذات اورحسن و جمال بھی ایک معجزہ ہے۔حسن کی تمام ادائیں آپ کی ذات میں جمع ہیں اور جہاں کہیں بھی حسن وکمال پایاجاتا ہے ،وہ ذاتِ پاک مصطفوی کا فیضان ہے ،جان محمد قدسی نے کہاہے:

گل از رخت آموختہ نازک بدنی را

بلبل زتو آموختہ شیریں سخنی را

ہر کس کہ لبِ لعل ترا دیدہ بہ دل گفت

حقا کہ چہ خوش کندہ عقیقِ یمنی را

ترجمہ:’’خوبصورت اورخوشبودارپھولوں نے نزاکت آپ کے رُخِ انور سے سیکھی اور بلبلوں کے نغموں کی مٹھاس آپ کی گفتار کاصدقہ ہے، جس نے بھی آپ کے سرخ ہونٹوں کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھا:خالق نے عقیقِ یمنی کو کتنی خوبصورتی سے تراشا ہے‘‘۔

                 مصطفی کریم ﷺ کے حسنِ پاک کا مشاہدہ کرنے والے خوش نصیب صحابہ کرام کبھی اس حسن کو آفتاب سے تشبیہ دیتے اورکبھی ماہتاب سے،جب کوئی بھی چیز آپ کے حسن وجمال کے مشابہ نہ ملی تو حضرت حسان بے اختیار پکار اٹھے:

وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ

وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ

خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ

کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ

ترجمہ:’’یارسول اللہ! آپ سے زیادہ حسین کبھی کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور آپ سے زیادہ جمیل کبھی کسی ماں نے جنا نہیں، خالق نے آپ کوہر عیب سے پاک کر کے پیدا کیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ خالق نے آپ کو ویسا ہی بنایا ہے، جیسا آپ نے چاہا‘‘۔بڑے بڑے عُشَّاق نے اس میدان میں اپنی قادرالکلامی اورفصاحت وبلاغت کے جوہر دکھائے ہیں،مگر خامہ فرسائی کے بعد بالآخر سب کو اپنے عَجز کا اعتراف کرنا پڑا،شمس الدین شیرازی نے تاجدارِ کائنات کے حسن وجمال کو بیان کرنے میں زبان وبیان کی بے مائیگی کااظہار ان اشعار میں کیا:

یَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَیَا سَیِّدَ الْبَشَر

مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر

لَایُمْکِنُ الثَّنَآءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ

بعد ازخدا بزرگ توئی، قصہ مختصر

ترجمہ:’’اے صاحبِ جمال اور اے عالَمِ بشریت کے سردار،آپ کے روشن کرنے والے رُخِ انور سے چاند کو روشنی عطا کی گئی ہے، آپ کی تعریف وتوصیف کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے،مختصراًیہی کہاجاسکتا ہے: اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد مخلوق میں سب سے اعلیٰ واَولیٰ آپ ہی کی ذات ہے‘‘، مولانا عبدالرحمن جامی نے کہا:

حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِبیضاداری،

آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

ترجمہ:’’یوسف علیہ السلام کا حُسن ، عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی اور موسیٰ علیہ السلام کایِد بیضا، الغرض جو خوبیاں اور کمالات تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں متفرق طور پر تھیں، یارسول اللہ! آپ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام خوبیوں کو بطریقِ کمال جمع فرمادیا‘‘۔

                اپنی سخن وری اور اندازِ بیان پر نازاں مرزاغالب اس میدان میں آئے تو اُنہوں نے اپنے عجز کا یوں اعتراف کیا:

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم

کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

ترجمہ:’’غالب خود سے مخاطِب ہوکرکہتا ہے:رسول اللہ ﷺ کی تعریف وتوصیف میں نے اللہ پر چھوڑ دی، کیونکہ وہی ایک ذاتِ پاک  ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے مرتبے کو سب سے بہتر جانتی ہے‘‘، یعنی کسی کی شان کو بکمال وتمام وہی بیان کرسکتا ہے، جو اُس سے پوری طرح آگاہ ہو۔غزالیِ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی فرمایا کرتے تھے: جب یہ بات مسلّم ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں تو آپ کے حسنِ صورت ، حسنِ سیرت ، علمی وعملی اورہمہ جہتی کمالات میں کسی بھی قسم کے نقص کا تصور وہ کرسکتا ہے ، جس کا گمان ہو کہ معاذ اللہ !یاتو عطا کرنے والے میں کوئی کمی ہے یا لینے والے میں قبولیت کی استعدادمیں کوئی کمی رہ گئی ہو ،لیکن جب عطا کرنے والی ذات یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نعمتوں کی کوئی انتہا نہ ہو اور لینے والے یعنی رسول اللہ ﷺ کی استعداد بھی درجۂ کمال کی ہو تو نَقص کا شائبہ کیسے ہوسکتا ہے، چنانچہ امام احمد رضا قادری نے فرمایا:

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے، یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

                  اہلِ علم فرماتے ہیں : رسول اللہﷺکی ذات ِ مبارکہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ آپ کے حسن و جمال پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ محدثین اور سیرت نگاروں نے اپنی کتابوں میں آپ کے باطنی خصائل و خصائص کے ساتھ ساتھ آپ کے ظاہری حسن و جمال کو بھی موضوعِ سخن بنایاہے،جمالِ مصطفوی کی تابانیوں اور ضو فشانیوں سے منور ہونے والے خوش نصیب صحابہ کرام اپنے محبوب کے رُخِ انور کے حسن وجمال کا والہانہ انداز میں تذکرہ کیا کرتے تھے ،اس حوالے سے چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:

(1):’’حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں:رسول اللہﷺ حسن وجمال میں سب سے بڑھ کر تھے اوراپنے اخلاق وکردار میں بھی سب پر فائق تھے،(صحیح بخاری:3549)‘‘،(2):’’حضرت براء بن عازب سے پوچھا گیاکہ رسول اللہﷺ کا چہرۂ انور شمشیر کی مانند تھا، فرمایا:نہیں!بلکہ چاند کی طرح حسین وجمیل تھا ،(صحیح بخاری:3552)‘‘۔شمشیر کی تشبیہ میں گولائی مفقود ہے،اس لیے اُنہوں نے چاند سے تشبیہ دی ،کہ چاند میں چمک دمک بھی ہے اور گولائی بھی ،(3):’’ حضرت جابر بن سَمُرَہ سے یہی سوال ہوا تو فرمایا:نہیں! بلکہ آپ کا رُخِ انور سورج اور چاند کی طرح روشن ،چمکدار اور گولائی لیے ہوئے تھا،(صحیح مسلم:2344)‘‘، (4): ’’حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی ﷺ سے بڑھ حسین وجمیل کسی اور کو نہیں پایا ،یوں معلوم ہوتا کہ آپ کے رُخِ انور میں سورج رواں دواں ہو،(سنن ترمذی:3648)‘‘۔

                (5):’’حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ چاندنی رات میں مجھے نبی کریمﷺ کی زیارت کا موقع ملا،آپﷺ نے ایک سرخ پوشاک زیب تن کررکھی تھی ،میں کبھی آپ ﷺکے رُخِ انورپر نظر ڈالتا اور کبھی چاند کی طرف دیکھتا ،کافی دیر یہی سلسلہ جاری رہا اوربار بار تجزیے کے بعدبالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ ﷺ چودھویں کے چاند سے زیادہ دلربا اور حسین وجمیل ہیں،(سنن ترمذی:2811)‘‘۔علامہ علی القاری لکھتے ہیں:’’چاند کا نور سورج کے نور سے مستعار ہے ،اس لیے اس میں کمی زیادتی ہوتی رہتی ہے ، حتی کہ کبھی تو بالکل بے نور ہوجاتا ہے ،جبکہ حضورِ انور ﷺ کے رُخِ مبارک کا نور دن رات میں کسی وقت جدا نہیں ہوتا،کیونکہ چاند کے برعکس یہ آپ کا ذاتی وصف ہے،(جمع الوسائل:ج:1ص:56)‘‘،امام احمد رضا قادری فرماتے ہیں:

برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اُس پر ایک بار

آج تک ہے، سینۂ مَہ میں نشانِ سوختہ

ترجمہ:’’شق القمر کے معجزے کے موقع پر ایک بار رسول اللہ ﷺ کی انگشتِ مبارک چاند کی جانب اٹھی تھی ، آج تک چاند کے سینے میں اس کا نشان موجود ہے‘‘۔ امام احمد رضا قادری نے اپنے اس شعر میں نبی کریمﷺ کے رُخِ زیبا کے بجائے آپ کی انگشتِ مبارک کی رعنائی کو بھی چاند پر فوقیت دی ہے کہ جب چاند آپ کی انگشت کی تجلیات سامنے مغلوب ہوگیا تو چہرے کے حسن کا مقابلہ کیا کرسکتا ہے ، ایک اور موقع پر آپ نے کہا:

رخِ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی

رہ گیا بوسہ دہ نقشِ کف پا ہو کر

ترجمہ:’’چاند نے جب آپ ﷺ کے رُخِ انور کی تجلی دیکھی تو گویاپائوں کے تلوے کی طرح پیکرِ عَجز بن کر اُسے بوسا دیا‘‘۔

                (6):’’حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں:جب نبی ﷺ کسی بات پر خوش ہوتے تو آپ کے چہرہ انور سے نور کی شعاعیں پھوٹتی دکھائی دیتی تھیں،یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہو ،(صحیح بخاری:3556)‘‘،(7):’’حضرت ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ربیع بنت مُعوَّذ سے عرض کی: مجھے نبی کریمﷺ کا حلیۂ مبارکہ بتائیں، اُنہوں نے فرمایا:’’میرے بیٹے!اگر تو ان کی زیارت کرتا تو یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا :گویا طلوع ہوتے آفتاب کی زیارت کررہا ہوں،(سنن دارمی:61)‘‘، (8): ’’حضرت امام حسن نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ سے عرض کی:مجھے نبی ﷺ کا حلیہ مبارکہ بتائیں،فرمایا:نبی ﷺ لوگوں کی نگاہوں میں بہت عظیم الشان دکھائی دیتے تھے اور آپ کا چہرہ انور چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا،(شمائل ترمذی، ج: 1، ص: 22)‘‘،( 9):’’حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی کریمﷺ سب سے بڑھ کر حسین اور خوش منظر تھے ،جو بھی آپﷺ کے چہرہ انور کو دیکھتاتو آپ کی توصیف وثنا کرتااور آپ کے چہرے کو چودھویں کے چاند کے ساتھ تشبیہ دیتا تھااور آپﷺ کے رخِ انور پر پسینے کے قطرے یوں محسوس ہوتے تھے جیسے موتی ہوں،(دلائل النبوۃ للبیہقی:ج1ص300)‘‘،(10):’’ابواسحٰق ہمدانی کہتے ہیں : حج کے موقع پر میری ایک صحابیہ سے ملاقات ہوئی ،میں نے کہا:مجھے نبی کریمﷺ کے بارے میں بتائیں،اُنہوںنے کہا : آپ چودھویں کے چاند کی طرح حسین وجمیل تھے ،میری نگاہوں نے ایسا حسین انسان نہ تو آپ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپ کے بعد ،(دلائل النبوۃ للبیہقی،ج1ص199)‘‘۔۔(جاری ہے۔۔۔)

View : 14

Leave a Comment

Your email address will not be published.