جِنایاتِ حج کے کفارات(حصہ اول)

                حالتِ احرام میں مُحرم کے لیے جو افعال منع ہیں اور جن کے ارتکاب پر ان کی تلافی (Compensation) کے لیے کوئی کفارہ (Penance)لازم آتا ہے،اُسے  ’’جنایۃ‘‘کہتے ہیں اور اس کی جمع جنایات ہے۔کفار ات کی چار قسمیںہیں:(الف) بُدنہ: یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی(ب)دَم: یعنی بکری یا دنبے کی قربانی(ج)مالی صدقہ(د)روزے۔حالتِ احرام میں مُحرِم کے لیے جو امور ممنوع ہیں ،اُن میں سے بعض کا تعلق لباس کے ساتھ ،بعض کا خوشبو استعمال کرنے اور میل کچیل دور کرنے سے ہے ، بعض کا تعلق عملِ زوجیت سے اور بعض کا شکار سے ہے۔

                حالتِ احرام میں مُحرِم کے لیے خوشبو استعمال کرنا ممنوع ہے ،نبی ﷺکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا ، اس کے بدن پر خلوق نامی خوشبو میں لتھڑی ہوئی دو چادریں تھیں، آپ ﷺ نے کچھ لمحے کے لیے خاموشی اختیار فرمائی اور اسی دوران آپ پر وحی نازل ہوئی، پھر جب آپ سے نزولِ وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے اس سے فرمایا: احرام کی خوشبو تین مرتبہ دھو ڈالو ، (صحیح البخاری:1536)‘‘۔

                حج یا عمرے کے دوران اگرمُحرِم جسم کے کسی بڑے عضو مثلاً: پنڈلی ،ران، داڑھی اور سینہ وغیرہ یا اُس کے چوتھائی حصے پر خوشبو لگائے تو اُس پر دم واجب ہوگا ،کسی بڑے عضو کے چوتھے حصے سے کم کو یا چھوٹے عضو جیسے کان ،ناک وغیرہ کوکثیر خوشبو یا بیک وقت تین یا تین سے زیادہ مرتبہ خوشبو لگائے ،تو دم واجب ہوگا۔ یہ خوشبو چاہے پرفیوم کی صورت میں ہو یا خوشبودار تیل ہو ، ہرقسم کی خوشبویات پر اس کا اطلاق ہوگا۔بے پکی خوشبودار چیزجیسے الائچی اتنی مقدار میں کھانا کہ پورے منہ یا اس کے اکثر حصے میں پھیل جائے ،اس سے دم واجب ہوجاتا ہے، خوشبو سے مرادوہ خوشبو ہے جو لگائی جاتی ہے یا چپکائی جاتی ہے ،صرف سونگھنے سے دم واجب نہیں ہوتا۔

                مردوں کے لیے سلا ہوالباس (قمیص ، جیکٹ، بنیان ،شلوار ،انڈرویئر ،نِکر ،عمامہ ،ٹوپی، دستانے ،جرابیں، موزے ،ایسے جوتے جن سے قدم کی پشت کی ہڈی چھپ جائے ،وغیرہ )پہننا منع ہے ۔اگر ان ساری ممنوع چیزوں میں سے کوئی ایک استعمال کرے اور اس کو ایک دن یا کئی دن مسلسل بلا عذرپہنے رہے تو اُس کی جنایت کے طورپر ایک دم واجب ہو گااوراگر یہ اشیاء عذر کے بغیر بارہ گھنٹے سے کم اور ایک گھنٹے سے زیادہ پہنے رہا ،تو صدقہ واجب ہے۔

                مرد نے سر یا چہرے یا دونوں یا چہرے اور سرکے چوتھے حصے یااُس سے زیادہ یا عورت نے پورے چہرے یا چوتھے حصے یا اُس سے زیادہ کوعذر کے سبب بارہ گھنٹے یااُس سے زائد وقت کے لیے سلے یا بغیر سلے کپڑے( جیسے اسکارف یا پٹی وغیرہ )کے ساتھ ڈھانپے رکھا تو دم یا چھ صدقہ یا تین روزوں میں سے کسی ایک کفارے کا اختیار ہے اوراگر بارہ گھنٹے سے کم کے لئے ایسا کیا تو صدقہ یا ایک دن کا روزہ واجب ہوگا۔

                کرونا کی وبا کے سبب سعودی حکومت نے زائرین کے لیے ماسک پہننے کو لازم قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے چہرے کا چوتھائی حصہ چھپ جاتا ہے، لہٰذا بارہ گھنٹے یا اس سے زائد پہننے میں دم لازم آئے گا اور اس سے کم اور ایک گھنٹہ سے زائد پہننے پر صدقہ دینا ہوگا، یہ پہننا کیونکہ عذر کے سبب ہے، لہٰذا اس صورت میں دم، صدقہ اور روزے میں اختیار ہونا چاہیے۔

                مونچھ کے بال کاٹنے پر صدقہ ہے۔سر، داڑھی، بغل ،زیر ناف بالوں کے علاوہ باقی جسم کے اعضاء کے بال کل یا بعض ہٹانے میں صدقہ واجب ہے ۔بیماری سے خود بخودبال گریں تو کوئی دم یا صدقہ نہیں ہے، لیکن اگر کھجانے یا وضو کرنے سے بال گریں تو تین بال تک ہر بال کے عوض مٹھی بھر گندم یاآٹا یاکھجور کا ایک دانہ صدقہ کرنا واجب ہے ۔اگر مُحرِم کسی دوسرے مُحرم کا وقت سے پہلے حلق کرلے تو حلق کرنے والے پر صدقہ ہے۔ اگر ایک ہاتھ یا پیر یا ہر پیر اور ہاتھ سے چار چار انگلیوں کے یا اس سے کم انگلیوں کے ناخن کاٹے ،تو ہرناخن کے بدلے ایک صدقہ واجب ہے ، ناخن خود کٹ جانے یا نکل جانے کی صورت میں کوئی کفارہ نہیں ہے ،مُحرم پرکسی اور مُحرم کے ناخن کاٹنے کی صورت میں صدقہ واجب ہے۔

                طواف قدوم میں کل یا اکثر چکر جنابت کے ساتھ ادا کرنے کی صورت میں صدقہ ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ چونکہ طواف قدوم سنت ہے ،اس لیے اس میں کچھ بھی جزا نہیں ہے۔جمرات کوکنکریاں مارنے میں کسی ایک دن یا ہر دن کی نصف سے کم کنکریاں   دوسرے دن تک موخر کرنے میں ایک صدقہ واجب ہے،لیکن اگر یہ کسی آسمانی عذر کی بنا پر ہو تو نہ دم واجب ہے اور نہ صدقہ ۔

                طوافِ زیارت فرض عین ہے اور خود کرنا ہوتا ہے،اس کا افضل وقت یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ ہے، رمی، قربانی اور حلق سے فارغ ہوکر اسی دن طوافِ زیارت کیا جائے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسی دن طوافِ زیارت کیا تھا اور اس کا واجب وقت دس ذوالحجہ کی صبح سے لے کر12کی غروب آفتاب تک ہے ،اگرکسی معقول شرعی عذر کی وجہ سے اس عرصے میں طواف کا اکثر حصہ ادانہ کیا تو دم واجب ہے ،اگر کسی حاجی نے طوافِ زیارت بے وضو کیا تو اس پر بکری کی قربانی لازم ہے اور حالتِ جنابت میں کیا تو بدنہ (گائے یا اونٹ) کی قربانی لازم ہے، اسی طرح اگر اس نے طواف کے اکثر چکر جنابت یا بے وضو ہونے کی حالت میں لگائے تو یہی حکم ہوگا۔ اس مذکورہ صورت میں افضل یہ ہے کہ جب تک مکۂ مکرمہ میں ہے تو اس طواف کا اعادہ کرلے،ایامِ نحر میں پاک ہوکر اعادے کی صورت میں دَم لازم نہیں ہوگا اور ایامِ نحر کے بعد اعادہ کیا تو دَم لازم آئے گا۔       اگرکوئی عورت تین دن حیض کی وجہ سے طواف زیارت نہ کرسکی ،تو اس پر کوئی دم نہیں، کیونکہ تاخیر کا یہ سبب اللہ کی جانب سے ہے، لیکن اگر تیسرے دن آخری وقت میں پاک ہوگئی اوروقت میں اتنی گنجائش ہے کہ غسل وغیرہ کے بعد طوافِ زیارت کے کل یااکثر چکر ادا کرسکتی ہے،لیکن اس کے باوجود طواف نہیں کیا، تو اس عورت پر تاخیر کی وجہ سے دم واجب ہے ۔

                طواف وداع ایام نحر میں حالتِ طہارت میں کرلیا لیکن طواف زیارت حالت جنابت میں کیا تھا اور اس کے بعد کوئی طواف نہیں کیا ،تو اس کا طواف وداع طوافِ زیارت کی طرف منتقل ہوجائے گا ،مگر طواف وداع کے ترک کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگا اور اگر ایام نحر کے بعد طواف وداع کیا تو یہ طواف زیارت بن جائے گا ،مگر حاجی پر دو دم واجب ہوں گے ،ایک طواف وداع کے ترک کا اور دوسرا طوافِ زیارت کو ایام نحر سے موخر کرنے کا ،اگر اس شخص نے دوبارہ طواف وداع کرلیا یا نفلی طواف کرلیا تو طوافِ وداع کے ترک والا دم ساقط ہوجائے گا۔ بے وضو طواف زیارت کرنے والے شخص نے طواف وداع ایام نحر میں باوضو کرلیا تو طواف وداع طواف زیارت کی طرف منتقل ہوجائے گا اور اگر دوبارہ طواف وداع یا نفلی طواف کیا تو کوئی دم نہیں ہے اور دوبارہ طواف وداع یا نفلی طواف نہ کیا تو دم واجب ہوگا ۔

                طواف زیارت کے اکثر چکر چھوڑ دیے اور بعض ادا کیے گئے اور ایام نحر کے بعد طواف وداع کرلیا تو طواف وداع کے چکروں سے طواف زیارت کے چکروں کو مکمل کیا جائے گا اور دو دم واجب ہوں گے ،ایک طواف زیارت کے اکثر چکر ایام نحر سے موخر کرنے کا دم اور دوسرا طواف وداع کے اکثر چکر کے ترک کا۔ اگر طوافِ زیارت کے اکثر یا کل چکر بے وضو ادا کیے تو دم واجب ہے اوراگر اعادہ کرلیا، اگرچہ ایام نحر کے بعد کیا ہو، تو دم ساقط ہے، کیونکہ بغیر وضو والا پہلا طواف بھی معتبر ہے ۔

                اگر کسی عورت کو طوافِ زیارت ادا کرنے سے پہلے حیض آگیا، پس اگر وہ حیض سے پاک ہونے تک رک سکتی ہے تو اس وقت تک رکنا اور پاک ہونے کے بعد طواف کرنا واجب ہے، تاہم اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے اس کے لیے ٹھہرنا ممکن نہ ہو تو ایسی عورت امام ابوحنیفہ کے مذہب اور امام احمد کی ایک روایت کے مطابق حیض کی حالت ہی میں طواف کرلے اور کفارے میں بدنہ ادا کرے۔

                طوافِ زیارت کے چار یا زائد یا کل چکر جنابت کی حالت میں لگائے اور پاک ہوکراعادہ نہ کیا، توکفارے کے طور پر بُدنہ (اونٹ یا گائے)کی قربانی واجب ہے،تاہم ناپاکی کی حالت میں کیے گئے طوافِ زیارت سے فریضہ ساقط ہوجائے گا، لیکن اگرپاک ہوکرایامِ نحر میں اعادہ کرلیا تو کفارہ ساقط ہوجائے گااورایامِ نحر کے بعد اعادہ کیا تودَم لازم آئے گا۔اسی طرح اگر عورت نے حیض یانفاس کی حالت میں طوافِ زیارت کیا تو وہ سخت گناہگار ہوگی اور اس کے ذمے لازم ہے کہ وہ طہارت کی حالت میں طواف کا اعادہ کرے ،اگر اس نے طواف کا اعادہ نہیں کیا توکفارے کے طور پر بُدنہ دے گی اوروہ اپنے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔

                طوافِ زیارت کے تین یا اِس سے کم چکر چھوٹ جانے کی صورت میں دم واجب ہے ،اِسی طرح ننگے بدن کے ساتھ یا الٹے پائوں یا کسی کے کندھے پربلا عذرسوار ہوکر طواف زیارت ادا کرنے کی صورت میں بھی دم واجب ہے ،اعادہ کی صورت میں دم ساقط ہوجائے گا۔اگر کسی شخص کا طواف زیارت یا اس کا اکثر حصہ ادا نہیں ہوسکا اور اس کے بعد اس نے کوئی اور طواف بھی نہیں کیا تو جب تک وہ طواف زیارت ادا نہیں کرے گا،میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے خواہ ساری زندگی گزر جائے ، وہ زندگی میں جب بھی ادا کرے گا، اسے قضا نہیں کہا جائے گا۔اگر طوافِ زیارت ادا کرنے سے پہلے میاں بیوی آپس میں مباشرت کریں تو زوجین میں سے جو بھی طواف کا تارک ہوگا ،اس پر جماع کی تعداد کے لحاظ سے دم واجب ہوں گے اور یہ دم بکری یا دنبے کی صورت میں ہوگا۔

                اگر طواف زیارت یا وداع کرنے والے کا ستر اتنا کھلا ہوا ہے جس کے ساتھ نماز نہیں ہوتی، تو طواف تو ادا ہوجائے گا، لیکن دم لازم ہے ۔اگر چوتھائی حصے سے کم برہنہ ہے تو دم واجب نہیں اور نفلی طواف میں کشف ستر پرکچھ نہیں ہے ،(جاری ہے۔۔)

View : 44

1 thought on “جِنایاتِ حج کے کفارات(حصہ اول)”

Leave a Comment

Your email address will not be published.