اخلاقی شخصیت کی تشکیل(حصہ اول)

                تاریخِ انسانیت میں عہدِ رسالت مآب ﷺ وعہدِ صحابہ سمیت کوئی بھی انسانی معاشرہ ایسا نہیں گزرا کہ جس میں سرے سے کسی جرم کا ارتکاب ہی نہ ہوا ہو۔اگر ایسا ہوتا توقرآن وسنت اور شریعت میں حدود وتعزیرات کے احکام اورنظامِ عدل کی نوبت ہی نہ آتی ۔ انسانیت کو جرم وگناہ سے واسطہ پڑتا رہاہے اور آئندہ بھی رہے گا ، مختلف ادوارمیں اخلاقی وتربیتی ماحول کے تناسب سے اس کا گراف کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی جرائم کی روک تھام کے لیے تعزیراتی قوانین اورعدالتیں ہر ملک میں قائم ہیں۔ الغرض انسانیت کا اس پراجماع ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے وعظ وتذکیر، معاشرتی دبائو اور اصلاحی تحریکات ایک حد تک تومفید ثابت ہوسکتی ہیں ،لیکن ان کے ذریعے جرائم سے معاشرے کی سو فیصد تطہیر عملاً ممکن نہیں ہے۔

                قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کے فرائضِ نبوت  میں تعلیمِ کتاب وحکمت کے ساتھ ساتھ ایک فریضہ ’’تزکیۂ نفس ‘‘کو قرار دیا ہے، یعنی وعظ وتذکیر، صحبتِ صالح اور روحانی تربیت کے ذریعے ظاہر کے ساتھ ساتھ لوگوں کے قلوب واذہان کابھی تزکیہ کرنا ،آپ  ﷺ نے صحابۂ کرام کی صورت میں ایسا ہی پاکیزہ معاشرہ تشکیل دیا تھا ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ صحابہ کرام خطا اور گناہ سے معصوم تھے ، کیونکہ یہ نبوت کا خاصّہ ہے ، لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم وتربیت اور صحبت کی برکت سے اُن کے قلوب واذہان اور باطن اتنا پاکیزہ ہوچکا تھا کہ اگر کسی وقت بشری کمزوری کے تحت اُن سے گناہ سرزد ہوجاتا ،تو جب تک اس کا ازالہ نہ کرتے ،انہیں چین نہ آتا۔ آج ہم جس صورتِ حال سے دوچار ہیں ،اس میں صرف عدالت وقانون اور سزاکا خوف ہی انسان کوکسی حد تک ارتکابِ جرم سے روکے رکھتا ہے یا اگر معاشرے میں خیر غالب ہے تو معاشرتی دبائو بھی انسان کو اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کے لیے کسی حد تک برائی سے روکے رکھتا ہے ، لیکن مکمل اصلاح ممکن نہیں ہوتی ۔اسلام میں خوفِ خدا اور آخرت کی جواب دہی کا تصور ہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو انسان کوجرم اور گناہ کی طرف بڑھنے سے روکتا ہے ۔

                بعض اوقات انسانی معاشرے پر شر اس قدر غالب ہوجاتا ہے کہ لوگ برائی کے ارتکاب سے ایک درجہ آگے نکل کر اس کے عَلانیہ اظہار میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے،انھیں اللہ تعالیٰ اوربندوں سے کوئی حیا یا حجاب محسوس نہیں ہوتا۔قومِ لوط کی اسی کیفیت کو قرآن نے بیان فرمایا ہے:’’کیاتم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہواوراپنی مجلس میں (عَلانیہ)برا کام کرتے ہو ، تواُن کی قوم کا جواب صرف یہ تھا :ہم پر اللہ کا عذاب لے آئو اگرتم سچے ہو،(العنکبوت:29)‘‘۔یعنی آخرت کی جزا وسزا پرعدمِ یقین انسان کو بے حیائی اور فسق وفجور کی اُس انتہا تک لے جاتا ہے کہ جرم عیب کی بجائے افتخار بن جاتا ہے ۔آج ہم تقریباً اسی طرح کے دور سے گزر رہے ہیں کہ جرم عیب نہیں رہا اور مجرم اپنے آپ کو قابلِ ملامت نہیں سمجھتا،پروفیسر حفیظ تائب نے کہا تھا :

سچ میرے دور میں جرم ہے، عیب ہے

جھوٹ فنِّ عظیم، آج لاریب ہے

ایک اعزاز ہے، جَہل وبے رہ روی

ایک آزار ہے، آگہی یانبی

دشمنِ جاں ہوا، میرا اپنا لہو

میرے اندر عَدُوّ، میرے باہر عَدُوّ

ماجرائے تحیُّر ہے، پرسیدنی

صورتِ حال ہے دیدنی، یانبی

                جس طرح صاف وشفاف اور سفید کپڑے پر کوئی داغ لگ جائے ،تو نفیس طبع انسان بے قرار رہتا ہے کہ لوگوں کی نظر اس داغ پر پڑے گی ،لیکن اگر کوئی موٹر مکینک ہے یا پینٹنگ کا کام کر رہا ہے اور اس کے لباس پر سوداغ پہلے سے لگے ہوئے ہیں ،اگر دس داغ اوربھی لگ جائیں ،تو اُسے بالکل کوئی بے چینی محسوس نہیں ہوتی۔یہی صورتِ حال گناہوں کی آلودگی کی ہے کہ اگر دامنِ ایمان وعمل پہلے سے ہی داغ دار ہے ،تو کسی تازہ گناہ کا داغ اُسے بے چین نہیں کرتا۔لیکن اگر اُس کی لوحِ قلب وذہن پاکیزہ ہے اور گناہ کا کوئی داغ لگ جائے ،تو وہ بے قرار ہوجاتاہے تاوقتیکہ توبہ کر کے اور شریعت کے مطابق اس کا ازالہ کر کے اپنے قلب کو پاک نہ کرلے۔لیکن یہ اُس صورت میں ہوتا ہے کہ ضمیر زندہ ہو اور اُس کے اندر قدرت نے خیر وشر میں تمیز کی جوصلاحیت رکھی ہے ،وہ بدستور کام کر رہی ہو ورنہ اُس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ،احادیثِ مبارکہ میں ہے:

                (۱)’’ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:ایمان کیا ہے؟، آپ ﷺ نے فرمایا : جب تمہاری نیکی سے تمہیں سُرور نصیب ہواور تمہارا گناہ تمہیں برا لگے ،تو تم مومن ہو، صحابی نے عرض کی:یارسول اللہ!گناہ کیا ہے؟، آپ ﷺ نے فرمایا: جب کسی چیز سے تمہارے دل میں گھٹن محسوس ہو ، تو اُسے چھوڑ دو ،(مسند احمد:22166)‘‘،(۲):’’ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں یہ بات ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتا چل جائے ،(ترمذی: 2389)‘‘۔

                ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نفسِ لوّامہ یعنی ضمیرخیر وشر کے لیے کسوٹی ہے ،ٹیسٹنگ مشین ہے اور کوئی بھی ٹیسٹنگ مشین اُسی وقت کارآمد ہوتی ہے جب وہ قابلِ کارہو اور اگر مشین ناکارہ ہوجائے تو وہ صحیح نتیجہ نہیں دیتی ،اسی طرح ضمیر مر جائے یا گناہوں سے آلودہ ہوجائے ،تو اُس کی صلاحیت معطّل ہوجاتی ہے۔جس طرح کسی ناکارہ ٹیسٹنگ مشین کو دوبارہ قابلِ کار بنانے کے لیے اُسے Overhaulکیا جاتا ہے ،ناقص پرزوں کو بدل دیا جاتا ہے اورپوری مشین کی سروس ٹیوننگ کر کے اُسے دوبارہ قابلِ کار بنایاجاتاہے۔اسی طرح ضمیر کی مُردنی کو حیاتِ نَو عطا کرنے اور اُسے دوبارہ قابلِ کار بنانے کے لیے توبہ کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے ، توبہ کے چھ مراحل ہیں: (الف)ماضی کے گناہوں کا اعتراف ،(ب)اُن پر اللہ تعالیٰ کے حضورندامت، (ج) اللہ تعالیٰ سے اُن پر معافی طلب کرنا، (د) شریعت میں بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ان کی تلافی کرنا،(ہ)آئندہ اُن سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے پیمانِ وفا باندھنا، (و)اور اس پیمانِ وفا پر ثابت قدم رہنے کی اللہ تعالیٰ سے خیر کی توفیق مانگنا،اسی کو ’’تَوبَۃُ النَّصُوْح‘‘ کہتے ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (۱)’’گناہوں سے (سچی)توبہ کرنے والا(گناہوں کی میل سے ایسا پاک ہوجاتا ہے) جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہ ہو،( ابن ماجہ:4250)‘‘۔(۲)’’اگر کسی کا اونٹ صحرا میں (سازوسامان سمیت)گم ہوجائے ، (وہ تلاشِ بسیار کے باوجود اُس کوپانے سے بالکل ناامید ہوجائے )اور پھر اچانک وہ اونٹ (سازوسامان سمیت) اُسے مل جائے ،تو ایسے عالَم میں اُس شخص کو جتنی خوشی نصیب ہوتی ہے ،اللہ تعالیٰ کا (بھٹکا ہوا ) بندہ جب توبہ کر کے اُس کی طرف واپس پلٹ آتاہے ،تو اُسے اُس شخص کے مقابلے میں بدرجہا زیادہ خوشی ہوتی ہے ،(بخاری:۶۳۰۹)‘‘۔اسی بامعنی توبہ کا نام ’’تزکیۂ قلب‘‘ اور ’’تطہیرنفس‘‘ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’بے شک مومن جب کوئی گناہ کربیٹھتا ہے ،تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبا پڑ جاتا ہے ،سو اگر وہ توبہ واستغفار کرلے تو اُس کا دل پاک وصاف ہوجاتا ہے ،لیکن اگر وہ (بروقت توبہ نہ کرے بلکہ ) بدستور گناہ کیے جاتا رہے یہاں تک کہ گناہوں کی تاریکی اُس کے پورے دل پر چھا جائے ،تو یہی وہ ’’رَین‘‘ہے ،جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ’’ہرگز نہیں!بلکہ اُن کے کرتوتوں کے سبب اُن کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ،(المطففین :14)‘‘۔

                 مقبول توبہ کی تعریف قرآن نے یہ کی ہے :’’اللہ تعالیٰ نے اپنے اُن (گناہ گار بندوں کی) توبہ کو قبول کرنا اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے ،جو نادانی میں گناہ کر بیٹھیں ،پھر (جرم کا احساس ہوتے ہی )جلد توبہ کرلیں ،تو یہ وہ لوگ ہیں جن کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور بہت حکمت والا ہے ،(النساء:17)‘‘۔اس کے برعکس ناقابلِ قبول توبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اور اُن لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہے ،جو (مسلسل )گناہ کرتے رہیں ،یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کی موت سر پر آ کھڑی ہو ،تو کہے:’’میں نے اب توبہ کی اور نہ اُن لوگوں کی توبہ قبول ہے جن کی موت کفر کی حالت میں واقع ہو‘‘، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، (النساء:18)‘‘۔اسی مفہوم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا :’’بے شک اللہ تعالیٰ سکراتِ موت طاری ہونے کے مرحلے تک بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے، ( ابن ماجہ:4253)‘‘۔

                مقبول توبہ کی معراج اللہ تعالیٰ نے ان کلمات میں بیان فرمائی ہے: ’’اور (رحمن کے پسندیدہ بندے)وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ وہ کسی ایسے (بے قصور)انسان کو قتل کرتے ہیں ،جس کے ناحق قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسے کام کرے گا،وہ اپنے گناہوں کی سزا پائے گا ،قیامت کے دن اُسے دُگنا عذاب دیا جائے گا اور وہ اُس میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ مبتلا رہے گا ،سوائے اُس کے جس نے (سچی )توبہ کرلی اور ایمان لایا اور(اس کے بعد )نیک عمل کرتا رہا، تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا ،بے حد رحم فرمانے والا ہے، (الفرقان: 68-70)‘‘۔ اس پر بھی علماء نے بحث کی ہے کہ اگر گناہ کی پاداش میں کسی پر قانونِ شریعت کے مطابق حد نافذ ہوجائے ،تو کیا وہ آخرت کی جواب دہی سے بچ جائے گا؟،اس کے بارے میں علمائے احناف کا موقف یہ ہے کہ اگر دنیا میں سزا پانے سے قبل اُس نے اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرلی ہے ،تو وہ آخرت کے مواخذے سے بچ جائے گا ،ورنہ اگر اُس نے اپنے جرم کو جرم مانا ہی نہیں، تو دنیا وی سزا پانے کے باوجود آخرت کے مواخذے سے نہیں بچ سکے گا ،یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور اعترافِ گناہ ،احساسِ ندامت اور توبہ ُاخروی مواخذے سے بچنے کے لیے ضروری ہے ،مفسدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’سوائے اُن کے جو تمہارے اُن پر قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں،(المائدہ:34)‘‘۔حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہواور اُسے دنیا میں سزا دے دی گئی،تو وہ اُس کے لیے کفارہ ہے ،( مسلم: 1709)‘‘۔علامہ غلام رسول سعیدی نے حوالہ جات کے ساتھ مسلّمہ فقہائے احناف کاموقف لکھا ہے:’’ کبیرہ گناہوں کامرتکب محض دنیاوی سزا سے توبہ کے بغیرآخرت کے مواخذے سے نہیں بچ سکتا،(شرح صحیح مسلم،ج:4،ص:878)‘‘۔

View : 130

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *