متفرقات

بھارتیوں کا واویلا:         افغانستان پر طالبان کے کنٹرول اور کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد بھارتیوں نے اتنا واویلا مچایا کہ گویا اُن کی ماں مرگئی ہے،انھوں نے طالبانِ افغانستان اور پاکستان پر چاند ماری شروع کردی، اُن کے میڈیا پرسن بدحواس نظر آرہے تھے۔

                بھارتی وزیر اعظم مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دَووَل ہیں، کہا جاتا ہے: مودی سرکار اَجیت دووَل کو جاسوسی کے فن کا ماہریعنی’’ اسپائی ماسٹر‘‘ قرار دیتی ہے۔ آٹھ برس پیش تر کی گئی اجیت دووَل کی ایک چھ منٹ کی تقریر ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے، اس میں وہ کہتے ہیں: ’’ہم ایسی افغانی فوج تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جو طالبان کو شکست دے سکے‘‘، اُن کے بقول یہ اُن کا زُعم و گمان ہے، لیکن انھی کا کہنا ہے:’’دس بارہ پاکستانی جنرلوں سے میری بات ہوئی ،وہ میرے مفروضے کی بابت شکوک وشبہات کا اظہار کر رہے تھے ، اُن کا کہنا تھا : ’’ایسا نہیں ہوسکتا، متضاد عناصر کو جمع کر کے ایک قومی فوج تشکیل دینا مشکل کام ہے، اسی کو اردو میں کہتے ہیں: ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘۔

                بالآخر امریکہ ، نیٹو اور بھارت کی مشترکہ طور پر تربیت یافتہ اور جدید اسلحے سے لیس تین لاکھ جوانوں اور افسران پر مشتمل افغان فوج مجاہدین کا مقابلہ کیے بغیر ڈھیر ہوگئی اور ریت کی دیوار ثابت ہوئی، توتجربے سے ثابت ہوا کہ پاکستانی جنرلوں کا وژن اجیت دووَل کے مقابلے میں صائب تھااور اُن کی بات سوفیصد درست ثابت ہوئی۔ اسی بنا پر اجیت دووَل کو آج کل بھارت میں ملامت کیا جارہا ہے۔اجیت دووَل کا پاکستانی جنرلوں سے اتنا تفصیلی رابطہ غالباً اُس زمانے میں ہوا ہوگا ، جب سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بیک ڈور ڈپلومیسی کا چینل روبہ عمل تھا۔ ریٹائرڈانڈین لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پانگ کے دووَل کے بارے میں سوشل میڈیا پرطنزیہ ریمارکس موجود ہیں: ’’واہ! کیا عظیم سپائی ماسٹر ہے‘‘، کیونکہ پاکستانی جنرلوں کے متوجہ کرنے پر بھی وہ اپنی رائے بدلنے پر آمادہ نہ ہوا۔

                کہا جاتا ہے:’’ بلوچستان میں بغاوت کو فروغ دینے کے لیے دووَل بیس سال سے مصروفِ عمل ہے ،وہ سات سال خود بھی پاکستان میں جاسوسی پر مامور رہاہے‘‘۔رسوائے زمانہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادودووَل کا رشتے دار ہے ،اس کے خاندان کا انڈین پولس سروس سے تعلق رہا ہے۔

                ہماری رائے میں افغان فوج کی ناکامی کے اسباب میں سے ایک یہ ہے : اُن کے پاس جان قربان کرنے کے لیے کوئی حقیقی داعیہ اور صادق جذبہ نہیں تھا، کیونکہ اُن کے ذمے ایک ایسی حکومت کا دفاع تھا ، جو افغان عوام کی قائم کردہ نہیں تھی، بلکہ امریکہ کی مسلّط کردہ تھی ،اشرف غنی نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ، وہیں خدمات بجا لاتے رہے ، امریکی قومیت کے حامل تھے۔پھر امریکیوں نے انھیں اٹھاکر افغانستان میں حکمرانی کے لیے لانچ کردیا، جیسے ہمارے ہاں مختلف اوقات میں معین قریشی ،شوکت عزیز، جاوید برکی اور باقر رضا کو بیرونِ ملک سے درآمد کر کے کلیدی مناصب پر فائز کیا جاتا رہا ہے۔

                سوشل میڈیا پر اب یہ صفائی پیش کی جارہی ہے :’’اجیت دووَل پرامید تھا کہ ہم ایک بہترین تربیت یافتہ اور بہترین اسلحے سے لیس افغان فوج تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جو اپنی جمہوریت اور دستور کا دفاع کرے گی، مگر انھوں نے خبرداربھی کیا تھا کہ سابق صدر نجیب اللہ کی قیادت میں ایک زیادہ طاقت ور فوج مجاہدین کے خلاف ناکام ونامراد رہی۔اپنی 2013کی تقریر میں دووَل نے تکرار کے ساتھ کہا: کامیاب جمہوری افغانستان تعمیر کرنے میں پاکستان کا حقیقی عزم ضروری ہے، جو اُس کے بقول نہیں ہے۔ لہٰذا اُن کے بقول دووَل کی آٹھ سالہ پرانی تقریر کوغلط سیاق کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے‘‘۔

                سوال یہ ہے: اگر امریکہ ،نیٹو اور انڈیا کا اصل ہدف صدقِ دل کے ساتھ مستحکم جمہوری افغانستان کی تعمیر تھااور اس کے لیے پاکستان کی حمایت ناگزیر تھی ، تو پھر انڈیا گزشتہ بیس سال سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے کیوں استعمال کرتا رہا ہے، اس کو پاکستان سے کیا تکلیف تھی ، کابل میں ایک انڈین سفارت خانے کا قیام تو قابلِ فہم بات ہے، لیکن قندھار، جلال آباد ، ہرات اور مزار شریف میں بھارتی قونصل خانوں کا کیا جواز تھا، اسی لیے طالبان کے کابل میں وارد ہوتے ہی بھارت کو ہرجگہ سے بستر بوریا سمیٹنا پڑا، سو امریکہ کی طرح بھارت کا مقدر بھی رسوائی بنی ۔

                ایسا معلوم ہوتا ہے : اب افغانستان میں طالبان کے غلبے کی حقیقت کو تسلیم کرکے غم واندوہ کی کیفیت سے نکل رہے ہیں۔ ان کے بعض دانشور بھی مودی حکومت کو متوجہ کر رہے ہیں کہ تعصب کی عینک اتارو، عقل سے کام لو ، سامنے کی حقیقتوں کو تسلیم کرو اور پیش آمدہ ناخوشگوار حقائق کو قبول کرتے ہوئے اپنے لیے کوئی راہِ عمل نکالو۔ پس بھارت اب درمیانی راستے کی تلاش میں ہے ،اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے چیرمین کی حیثیت سے بھارتی نمائندے نے طالبان ِ افغانستان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے والی دستاویز پر دستخط کردیے ہیں اور طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب پیش رفت بھی ہورہی ہے،انڈیا کے انگریزی اخبار ’’دی ہندو‘‘کی مندرجہ ذیل رپورٹ سے اس کے شواہد مل رہے ہیں:

                ’’قطر میں بھارتی سفیر دیپک متل نے طالبان کے سفارتی نمائندے شیر محمد عباس استانکزئی سے ملاقات کی،بھارتی نمائندے نے کہا:’’ ملاقات طالبان کی درخواست پر ہوئی، طالبان بھی اپنے آپ کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں ،البتہ اس کی بابت انڈیا تاحال محتاط ہے۔ گفتگو کا مرکزی موضوع بھارتیوں کی بحفاظت وسلامتی واپسی تھی۔ انڈیا کواس بات پر تشویش تھی کہ افغانستان کی سرزمین انڈیا کے مفادات کے منافی اور دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کی جائے ،140انڈین اب بھی کابل میں ہیں جنھیں واپس لانا ہے، 112بھارتیوں سمیت انڈیا 565افراد پہلے ہی نکال چکاہے، یہ تعداد دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔

                استانکزئی انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون کے گریجویٹ ہیں ، انھوں نے بھارتیوں سے کہا: ’’وہ افغانستان کے ساتھ اپنے سیاسی اور تجارتی تعلقات جاری رکھیں‘‘، یہ میٹنگ بھارت کی جانب سے ان اشارات کے بعد ہوئی کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے، البتہ اُسے حقانی گروپ کے بارے میں تشویش ہے، جو2008-9میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کا ذمے دار ہے، اس میں پچھتر افراد ہلاک ہوئے تھے‘‘۔

امریکیوں کی کابل ائیر پورٹ سے رخصتی کے مناظر:

                دنیا کی عشرتوں میں مگن اور اللہ کے قانونِ مکافاتِ عمل سے بے پروالوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’اور وہ کتنے ہی باغات ، (میٹھے پانی کے )چشمے ،( لہلہاتے )کھیت ، عالی شان محلات اورنازونِعَم چھوڑ گئے ، جن سے وہ لطف اندوز ہورہے تھے، یہی ہماری سنّت (جاریہ )ہے اور ہم نے اِن تمام چیزوں کا وارث دوسری قوم کو بنادیا، سو نہ اُن پرچشمِ فلک روئی ،نہ زمین گریاں ہوئی اور نہ انھیں مہلت دی گئی، (الدخان:25-29)‘‘۔

                امریکی جب کابل ائیرپورٹ کو الوداع کہہ رہے تھے تو انھوں نے اپنے متروکہ جہازوں ، ہیلی کاپٹروں ، انتہائی جدید ہتھیاروں کو ،جنھیں وہ اپنے ساتھ لے جانہیں سکتے تھے، اپنے ہاتھوں سے تباہ کیا، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مثال قرآنِ کریم میں بیان فرمائی ہے:’’اوراُس عورت کی طرح نہ ہوجائو جس نے اپنا سُوت مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ریزہ ریزہ کرکے توڑدیا ہو، (النحل:92)‘‘۔الغرض کابل ائیر پورٹ سے دنیا کی سپر پاور امریکہ کے الوداعی لمحات عبرت آموزہیں، کاش! کوئی اپنی چشمِ بصیرت کو کھلا رکھے ، غالب نے کہا تھا:

                                                                                                                                 حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں                                        مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

                امریکیوں کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ وہ نوحہ گری کے عادی ہیں یا نہیں، تاہم میڈیا کے سامنے امریکی صدر جوبائیڈن کی آنکھوں سے آنسو ضرور نکل آئے، لیکن اگر امریکہ میں نوحہ خواں دستیاب نہ ہوں تو ہمارے میڈیا کے لبرل دانشور یہ خدمت بجا لانے کے لیے کافی ہیں، انھیں یہ مناظر دیکھ کر امریکیوں سے بھی زیادہ ذہنی اذیت ہورہی ہے، وہ مختلف تاویلات وتوجیہات کا سہارا لے کر مستقبل کے بھیانک نتائج سے ڈرا رہے ہیں ،دعا ہے جس تعبیر سے وہ ڈرا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ افغانوں اوراہلِ پاکستان کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

                مشکل فیصلے کرنے کے لیے صاحبِ عزم قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، امریکہ ایک عرصے سے افغانستان کی بے مقصد جنگ سے نکلنا چاہتا تھا، مگر اوباما اپنے سیاہ فام ہونے کی کمزوری کی وجہ سے یہ مشکل فیصلہ نہ کرسکا، جبکہ ٹرمپ نے اشرف غنی حکومت کو ایک جانب رکھ کر ’’امارتِ اسلامی افغانستان ‘‘ سے معاہدہ کیا، یہ تحریکِ طالبانِ افغانستان کو افغانستان کا حقیقی وارث سمجھنے کے مترادف تھا ،وہ افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا ء کی ممکنہ تاریخ بھی دے چکے تھے۔ بائیڈن نے اُسے تکمیل کے مرحلے تک پہنچایا،انھوں نے عزیمت کامظاہرہ کیا ،مقبولِ عام بیانیے کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیااور دو ٹوک انداز میں کہا:’’ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور اس پر انھیں کوئی ندامت نہیں ہے‘‘، البتہ امریکی سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ میں اندرونِ خانہ بلیم گیم چل رہی ہے اور کسی حد تک منظرِ عام پر بھی آرہی ہے ،سول اسٹبلشمنٹ کو شکوہ ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے انھیں زمینی حقائق سے بے خبر رکھا۔ بائیڈن نے یہ بھی کہا: ’’روس اور چین چاہتے ہیں کہ ہم بدستور افغان جنگ میں الجھے رہیں ‘‘۔ آج کل امریکی پسپائی اور اس کے مابعد اثرات پر سب سے زیادہ روس کا انگریزی چینل ’’RT‘‘ پروگرام کر رہا ہے۔

                ایسے مواقع پر بعض شوقیہ ماہرین رضاکارانہ طور پراتالیق کا کردار بھی ادا کرنا چاہتے ہیں، ان کے ذہن میں مشوروں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان اور تحریک طالبان کی قیادت کو اپنی حکمتِ عملی مرتب کرکے روبہ عمل لانے کا موقع دیا جائے، وہ یقینا خالی الذہن نہیں ہوں گے،آزمائش کی بھٹی سے گزر کر وہ کندن بن چکے ہیں ، وہ عزیمت واستقامت کے طویل سفراور عملی تجربے سے گزر کر آئے ہیں، یقیناان کے ذہن میں آنے والے دنوں کے لیے خاکہ موجود ہوگا۔ اقوامِ عالَم کو چاہیے کہ ان کی مُشکیں کسنے کے بجائے انھیں موقع دیں، عالمی برادری میں ان کی شمولیت کی راہ ہموار کریں ، ان کی حکومت کو تسلیم کریں اور ان کے ساتھ قابلِ قبول تعامل کا طریقہ وضع کریں۔ افغانستان کی سرزمین پر بہت خون بہہ چکا ہے، اب افغانیوں کو ان کے طویل جہاد اورقربانیوں کا ثمر ملنا چاہیے۔

View : 55

Leave a Comment

Your email address will not be published.