لاٹ صاحب!(حصہ اول)

                انگریزی لفظ ’’Lord‘‘کوہندی زبان میں تبدیل کر کے ’’لاٹ‘‘ بنایا گیا تھا، Lordکے معنی ہیں: ’’خداوند ، آقا، مالک، امیر، ملک کا حاکم ،گورنر، لیفٹننٹ گورنروغیرہ،(قائد اللغات)‘‘۔ برطانوی استعمار کے دور میں چونکہ انگریز ہندوستان میں آقا بن کر آئے تھے، اس لیے ہردرجے کے گورے افسر کو ’’لاٹ صاحب‘‘ کہاجانے لگا، اس کے لازمی معنی یہ ہیں کہ اُن کے مقابل دیسی لوگ غلاموں کے درجے میں سمجھے جاتے تھے۔1962-63میں ہم بسلسلۂ تعلیم لاہور میں تھے ،اُس وقت مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی، اس لیے مشرقی پاکستان کے غلبے سے بچنے کے لیے مشرقی اور مغربی پاکستان میں مساوات(Parity) کا اصول بنایا گیا اور آبادی میں تفاوت کے باوجود 1956اور1962کے دساتیر میں قومی اسمبلی میں مساوی نمائندگی رکھی گئی تھی ،نیز مغربی پاکستان میں صوبوں کو ضم کر کے ’’ون یونٹ‘‘بنا دیا گیاتھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے بالمقابل مال روڈ کے اختتام پر کچہری روڈ ہے ، اُسی پر مغربی پاکستان کاسیکرٹریٹ تھاجو اَب پنجاب سیکرٹریٹ کہلاتا ہے، انگریزوں کے زمانے میں اسے ’’لاٹ صاحب کا دفتر‘‘ کہاجاتا تھا، چنانچہ اُس دور میں بھی بس کنڈکٹر اس اسٹاپ کو ’’دفتر لاٹ صاحب ‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

                الغرض جب ’’گورے لاٹ صاحب‘‘ 1947میں واپس چلے گئے ، تو انھوں نے اپنا ورثہ’’ دیسی لاٹ صاحب ‘‘کو منتقل کردیا، ان کے اندر وہی گورے لاٹ صاحب کی روح رواں تھی اور وہ خود کو آقا اور عوام کو غلام سمجھتے رہے ۔ ملک کی آزادی کو چوہتر سال گزر چکے ہیں ، لیکن یہ سوچ آقائوں کے ذہن سے اب تک نہیں نکلی۔ تمام قومی اخبارات کے جمعۃ المبارک( 19نومبر)کے ایڈیشن کی شہ سرخی اور اس کا متن وزیراطلاعات فواد چودھری کے اُس خطاب کی رپورٹنگ پر مشتمل تھاجوانھوں نے ’’انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد ‘‘میں کیاتھا، اُن کے فرمودات کو اخبارات نے مِن وعَن نقل کیا۔ اُن کے دوسرے فرموداتِ عالیہ پر الگ سے گفتگو ہوگی، اس وقت اُن کے مندرجہ ذیل فرمودات پر بات کرنا مقصود ہے:

                ’’پاکستان کی تاریخ دیکھی جائے تو مذاکرات وزیر اعظم یا وزیر داخلہ نہیں،بلکہ تھانیدار کرتا تھا‘‘، نیز انھوں نے کہا: ’’برطانیہ نے مقامی لا انفورسمنٹ نظام قائم کیا تھا، ہم نے وہ نظام تو ختم کردیا، لیکن اس کا متبادل نظام نہیں لاسکے، اس نظام کے تین بڑے ستون چوکیدار، نمبردار اور تھانیدار تھے، نمبردار کا انسٹیٹیوشن ختم ہونے سے چوکیدار کا نظام ختم ہوگیا‘‘۔

                چودھری صاحب کے نزدیک برطانوی استعمارکا دور آئیڈیل تھا:’’ گورے لاٹ صاحب کے نیچے تھانیدار ، نمبردار اور چوکیدار سب کو غلاموں کی طرح ہانکتے تھے،کسی کو اُن کے سامنے اُف کرنے کی مجال نہیں تھی، اگر کوئی سرپھرا احتجاج کرتا تو اُسے نشانِ عبرت بنادیا جاتا‘‘۔یہ اُن لوگوں کی جاگیردارانہ سوچ ہے جن کے آبائواجداد لاٹ صاحب کے بوٹ پالش کرتے تھے ، اُن کے گھوڑوں کی مالش کیا کرتے تھے اور انعام کے طور پر اُن کو جاگیریں ملتیں، عوام کو ظالمانہ انداز میں کچلنے کے لیے انعامات واعزازات سے نوازا جاتا تھا‘‘۔یہ سوچ اُن کی موجودہ نسلوں کی جینیاتی ساخت میں بھی شامل ہے،اُن کو یہ ذہنی ساخت اپنے اجداد سے ورثے میں ملی ہے، لہٰذا وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی کمی کمین وزیر اعظم یا وزیر یا مشیر وغیرہ سے براہِ راست بات کرے۔ فوادچودھری صاحب کو عوام کی یہ جسارت ہرگز برداشت نہیں ہے، قدموں میں بیٹھنے والے اُن کے برابر کیسے بیٹھ سکتے ہیں، قیامِ پاکستان کے چوہتر سال گزرنے کے باوجود اُن کی ذہنی ساخت اور سوچ نہیں بدلی۔ اس لیے اُن کا روحانی درداورکرب سمجھ میں آتا ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں جن عوام کی تھانیدار تک رسائی نہیں تھی،وہ وزیر اعظم یا وزیر داخلہ سے بات کرنے کی جسارت کیسے کرتے ہیں۔اس سوچ کا تقاضا ہے کہ وزیر اعظم کی عوام سے ٹیلی فونک روابط اور پورٹل قسم کی چیزیں اُن کے شایانِ شان نہیں ہیں، کمی کمین لوگوں کو منہ لگانا ہی نہیں چاہیے، اس کے لیے تھانیدار اور پٹواری کو استعمال کرنا چاہیے،یہ جمہوری لبادے میں چودھری فواد کی آمرانہ سوچ ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں۔ عوام میں جڑیں رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں کا فریضہ ہے کہ اس سوچ کے خلاف آواز بلند کریں ، عوام میں آگہی پیدا کریں ، اُن میں جرأتِ اظہار پیدا کریں اور اُن کو احساس دلائیں کہ وہ بھی آدم زاد ہیں اور برابر کے انسانی حقوق رکھتے ہیں۔ پاکستان اس لیے قائم نہیں کیا گیا تھا کہ آقا وغلام کے برطانوی ورثے کو لے کر آگے چلا جائے،اس ضمن میں علامہ اقبال کے متفرق اشعار ملاحظہ کیجیے:

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے

حذَر اے چِیرہ دستاں!سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نُوری ہو

لہُو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چِیریں

زمیں سے نُوریانِ آسماں پرواز کہتے تھے

یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے

بندگی میں گھَٹ کے رہ جاتی ہے اک جُوئے کم آب

اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی

                حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا: ’’لوگوں کواُن کی مائوں نے آزاد جناتھا، تم نے ان کو غلام کب سے بنالیا‘‘۔جنگِ قادسیہ کے آخری مرحلے سے پہلے اتمامِ حجت کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا: جنگ شروع کرنے سے پہلے اسلامی شِعار کے مطابق یزدگرد کے سامنے صلح کی شرائط پیش کردی جائیں اور اس مقصد کے لیے سفیر مدائن بھیجے جائیں۔یزدگرد کواسلامی سفیروں کی آمد کی اطلاع ملی تو اس نے دربار کوخاص طور پر آراستہ کیا، اس نے سوچا کہ اتنی عظیم مملکت کے سفیروں کا استقبال اُن کے شایانِ شان تُزُک واحتشام کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جب مسلم سفیر وہاں پہنچے توطویل سفر کے سبب چہروں پر تھکاوٹ کے آثار، کندھوں پر بوسیدہ چادریں ،ہاتھوں میں چابک، پائوں میں موزے اورسواری کے دبلے پتلے گھوڑے گرد اڑاتے چلے آرہے تھے۔یزدگردیہ منظر دیکھ کرحیران ہوگیا ، اتنی عظیم مملکت اور اس کے سفیروں کی یہ حالتِ زار ، اُسے اُن سے بات کرنا بھی گوارا نہ تھی۔ لیکن جب اس کے درباریوں نے اس پر زور دیا تو وہ بادلِ ناخواستہ ان سے ملنے کے لیے آمادہ ہوگیا۔ وفد دربار میں پہنچا تو ان کے رئیس نے حسبِ معمول شہنشاہِ ایران سے کہا :’’ یا تو اسلام قبول کر کے ہم میں سے ہوجائو یا اسلامی مملکت کے اقتدار کی برتری تسلیم کرلو تاکہ تمہارا ملک اور عوام محفوظ رہیں اور اگر یہ بھی قبول نہیں تو پھر تلوار کے فیصلے کا انتظار کرو‘‘۔

                یزدگرد نے یہ سنا تو غصے سے آگ بگولا ہوگیااورکہا : تم وحشی ، بدتہذیب عرب، گَوہ کھانے والے ، اونٹوں کا دودھ پینے والے گنوار اور تمہاری جرأت وجسارت کا یہ عالم!،کیا تم بھول گئے ہو کہ جب تم معمولی سی سرکشی کیا کرتے تھے تو ہم اہلِ فارس خودتمہارے مقابلے میں آنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے ،ہم اپنے باجگزارسرداروں( فوادچودھری کے مطابق تھانیداروں) کو حکم دیتے تھے اور وہ تمہاری گوشمالی کر کے تمہیں سیدھا کردیتے تھے۔ اب اگر بھوک اور افلاس نے تم لوگوں کو جنگ پر آمادہ کردیا ہے، تو ہم تمہارے لیے روٹی کپڑے کا بندوبست کردیتے ہیں ، جائو!آرام سے بیٹھو، کیوں اپنی جان کے درپے ہو۔

                رئیس وفد نے یزدگرد کی باتوں کو نہایت سکون و اطمینان سے سنا اور کہا: تم نے ہماری پہلی حالت کے متعلق جو کچھ کہا ہے ،وہ بالکل ٹھیک ہے، ہم اس سے بھی زیادہ جاہل اور زبوں حال تھے،لیکن اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیم وتربیت نے ہمارے اندر جو انقلاب برپا کردیا ہے ،اس کاتمہیں علم نہیں، اب ہم ایک بدلی ہوئی قوم ہیں اور انھوں نے پھرتینوں شرطیں دہرائیں،علامہ اقبال نے کہا ہے:

نگاہِ کم سے نہ دیکھ، اُن کی کج کلاہی کو

یہ بے کلاہ ہیں ،سرمایۂ کلاہ داری

                ترجمہ:’’تاج وتخت سے محروم لوگوں کو حقارت سے نہ دیکھو، یہ تاج وتخت کے بغیر ہیں ، لیکن ان کی خودی اور حمیتِ دینی نے انھیں تاج وتخت والوں کے لیے قابلِ رشک بنادیا ہے‘‘۔

                یہ سن کر یزدگرد آپے سے باہر ہوگیا اورغیظ وغضب میں آکر بولا : اگرسفیروں کو قتل کرناسفارتی اَقدار کے منافی نہ ہوتا، تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا۔ جائو ! جو تمہارے جی میں آئے کرو، لیکن جاتے جاتے ایک تحفہ ضرور لیتے جائو، یہ کہہ کر اس نے مٹی کا ایک ٹوکرا منگایا اور اسے رئیس وفد کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے ٹوکرا اٹھایا اور شاداں وفرحاں اپنے سپہ سالارحضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچے، اُن کوسارا ماجرا سنایا اور اس کے بعد مٹی کاوہ ٹوکرا پیش کرتے ہوئے کہا: ’’مبارک ہو، یزدگرد نے خود ہی اپنی زمین ہمارے حوالے کردی ‘‘۔بعد کے واقعات نے ثابت کردیا کہ اس مٹی کے ٹوکرے میں فی الواقعہ سلطنت فارس کی سرزمین سمٹ کر آگئی تھی،علامہ اقبال کے متفرق اشعارملاحظہ کیجیے:

خاکساران جہاں رابہ حقارت منگر

تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

                ترجمہ:’’دنیا کی خاک چھاننے والوں کو حقارت سے نہ دیکھو،تجھے کیا خبر ! اس گَرد میں غیور وجسور مردانِ باکمال بھی ہوتے ہیں‘‘۔ جسور کے معنی ہیں: ’’دلیر، بہادر ‘‘۔

نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

                لیکن علامہ اقبال نے ایسے ہی فوادچودھریوں کے بارے میں اظہارِافسوس کرتے ہوئے کہا:

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی، کہ جنھیں

خبر نہیں، رَوِشِ بندہ پروری کیا ہے

                ترجمہ: ’’انقلاباتِ زمانہ کے نتیجے میں تقدیر نے انھیں سلطنت پر فائز کردیا کہ جنھیں ’’بندہ پروری ‘‘یعنی’’ عوام کے حقوق‘‘ کی پاس داری اور حُرمت کا شعور ہی نہیں ہے‘‘۔فواد چودھری صاحب! آپ تھانیداروں پر ضرور ناز کریں ،لیکن آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ جب خَلق خدا دیوانہ وار نکلتی ہے توریت کی یہ دیواریں ڈھ جاتی ہیں اور ان کے ذرّے خس وخاشاک کی طرح اڑ جاتے ہیں،آپ جیسوں کی تمکَنت وغرور خاک میں مل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے عیش وعشرت میں پھلے پھولے ماضی کے بدمست لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا ہے: ’’وہ کتنے ہی باغات، (میٹھے پانی کے)چشمے ،لہلہاتے کھیت ،عظیم الشان محلّات اور نازو نِعَم جن سے وہ لطف اندوز ہورہے تھے،(اپنے پیچھے) چھوڑ گئے ،ہاں!اسی طرح ہوا اور ہم نے ان سب چیزوں کا وارث دوسروں کو بنادیا، تو نہ اُن پر چشمِ فلک روئی اور نہ زمین گریہ کناں ہوئی اور نہ انھیں مہلت دی گئی ، (الدخان:25-29)‘‘۔

(جاری ہے)

View : 99

Leave a Comment

Your email address will not be published.