شعبان المعظم اور شب برا ت(آخری قسط)

         جامع ترمذی میں ’’بَابُ مَاجَآءَ فِیْ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ‘‘کے تحت شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث روایت کی گئی ہے۔ اس پر بحث کرتے ہوئے مشہور اہلِ حدیث عالم شیخ عبداللہ مبارک پوری لکھتے ہیں:’’جان لوکہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں ، یہ احادیث بحیثیتِ مجموعی اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ (شریعت میں) اس کی اصل موجود ہے‘‘۔پھر انہوں نے اس رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ذکر کرکے ان پر کلام کیا ہے اور آخر میں لکھتے ہیں:’’اور ان روایات کا مجموعہ اُن لوگوں پر حُجت ہے ، جو یہ گمان کرتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت کے بارے میں دین میں کوئی بات ثابت نہیں ہے ‘‘، (تُحْفَۃُ الْاَحْوَذِی شرح جامع ترمذی، جلد:2،ص:52-53) ‘‘،یہ اُن کی بحث کا خلاصہ ہے۔

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں: ’’ہمارے والد صاحب فرماتے تھے کہ ان احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میںزندگی میں کم از کم ایک بار شعبان کی پندرہویں شب کوضرورقبرستان جانا چاہیے‘‘،تاہم احادیثِ مبارکہ میں ایسی کوئی تحدید نہیں ہے۔پس ثابت ہوا کہ یہ علمائے کرام کسی نہ کسی درجے میں اس رات کی فضیلت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن پھر عوام کے مساجد میںنفلی عبادات اور مجالس وعظ کے لیے جمع ہونے کے رجحان کو بدعت بھی قرار دیتے ہیں ، یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ہم بھی اس رات میں قیام، عبادات ، تلاوت وذکرواذکار اور تسبیحات ودرود کوفرض یا واجب قرار نہیں دیتے،یہ باتیں سنت ومستحب ہیں ،ہم ان کے التزام کی تلقین یا تاکید نہیں کرتے ،صرف ترغیب دیتے ہیں اور  ترک پر کسی کو ملامت بھی نہیں کرتے ،کیونکہ مستحبات کے ترک پر ملامت کرنا اصولِ شرع کے خلاف ہے ،البتہ جواز واستحباب احادیث وروایات میں موجود ہے۔سوشریعت میں جس بات کا ثبوت جس درجے میں ہو،اُسے مان لینا چاہیے ،ہر بات کو مسلمانوں کے درمیان محلِ نزاع نہیں بنانا چاہیے اور ماننے والوں کو بھی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ 

ان احادیث کی روشنی میں ہمارے اس خطے میں شعبان کی پندرہویں شب کو اپنے مرحومین کی قبور پر جانے کی روایت ہے اور یہ اچھی بات ہے، کیونکہ حدیث پاک میں ہے:’’حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے(ابتدائے اسلام میں) تمہیں قبرستان جانے سے روکا تھا ،سو اب تم جایا کرو، کیونکہ اس سے دنیا کی ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے،(سنن ابن ماجہ:1571)‘‘۔ دنیا سے کسی قدر بے رغبتی اور آخرت کی یاد شریعت کا مطلوب ہے،پس جب قبرستان جائیں توآخرت کا تصور ذہنوں میں تازہ کریں کہ یہ اہلِ قبور بھی کبھی بڑی شان وشوکت والے تھے ، حسین وجمیل مکانات میں رہتے تھے،پر تعیّش زندگی گزارتے تھے، اب چھ فٹ کے گڑھے میں لیٹے ہوئے ہیں،دنیا کی ساری عشرتیں اور قرابت کے رشتے اسی دنیا میں رہ گئے، میر تقی میر نے کہا تھا :

کل پاؤں ایک کاسۂ سرپر جو آگیا یکسر وہ استخواںشکستوں سے چُور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھو کُسُوکا سرِ پرغرور تھا

  بہت سے لوگ زائرین کی سہولت کے لیے قبرستان کی صفائی کرتے ہیں، یہ بھی اچھی روایت ہے، کیونکہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز (یعنی پتھر ، کنکر ، کانٹے ،موذی حشرات الارض وغیرہ)کے ہٹا دینے کو رسول اللہ ﷺ نے ایمان کاایک حصہ قرار دیا ہے اور اگر کوئی اسپرے بھی کرسکے تو اس کی وجہ سے حشرات الارض اور موذی جانوروں سے لوگ محفوظ رہیں گے، اب توجدید دنیا بھی ماحولیاتی تطہیرکو بڑی اہمیت دے رہی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کو ایک بڑاعالمی مسئلہ قرار دے رہی ہے۔بعض لوگ قبرستان میں چراغاں کرتے ہیں، زائرین کی سہولت کے لیے روشنی کا انتظام کرتے ہیں،یہ اچھی بات ہے ،لیکن اس کا شبِ برات کے معمولات سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے کہ اسے محض اس رات کے لیے خاص سنت یاعبادت سمجھ کر کیا جائے ،یہ انتظام مستقل اور ضرورت کی حد تک ہونا چاہیے ، اس میں اِفراط درست نہیںہے۔ اہلِ قبورکو جو نور کام آتاہے، وہ ایمان اور اعمالِ صالحہ کا نور ہے اوراہلِ قبور کو ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارے اس خطے میں شب برا ت کے موقع پر آتشیں کھلونوں سے بچے کھیلتے ہیں، یہ ناجائز ہے اور کم ازکم مکروہِ تحریمی ہے ۔ ملکی قانون کی رو سے بھی آتشیں کھلونے بنانا، انہیں ذخیرہ کرنا اور بیچنا منع ہے اورمفادِ عامّہ کے قوانین کی پابندی شرعًا بھی مستحسن اور بعض صورتوں میں ضروری ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ محض دولت کمانے کے لیے غیر شرعی اور غیر قانونی کام کرتے ہیں۔
ایصالِ ثواب کے لیے غریبوں کو کھانا کھلانااچھی بات ہے، لیکن شبِ برات کے حوالے سے حلوہ پکانااور بانٹنا ہمارے خطے کا ایک رواج ہے جو شریعت میںمنع تونہیں ہے ، لیکن یہ شرعًا لازم بھی نہیں ہے۔شب برات کے لئے کوئی خاص عبادت منقول نہیں ہے، نوافل ، تلاوتِ قرآنِ کریم ، اَذکاروتسبیحات ودرود میں سے جس کی بھی توفیق وسعادت نصیب ہو، قابلِ تحسین ہے۔ میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ اِن مبارک راتوں میں اور جب بھی موقع ملے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق کی ارزانی ہو، توماضی کی قضا نمازیں پڑھنی چاہییں۔حدیث مبارک میں ہے:’’ غزوۂ خندق کے دن رسول اللہ ﷺ کی چار نمازیں مشرکینِ مکہ(کے محاصرے ) کی وجہ سے جاتی رہیں ،یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا،پھر آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، اُنہوں نے اذان دی ،پھراقامت کہی تو رسول اللہ ﷺ نے پہلے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر اقامت کہی گئی اور عصرکی نماز پڑھائی پھر اقامت کہی گئی اور مغرب کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی اور عشاء کی نماز پڑھائی،(سُنن ترمذی: 179)‘‘۔
علامہ نظام الدین لکھتے ہیں:’’سنن مُؤَکَّدَہ کے سوا دیگر نوافل پڑھنے سے قضانمازیں ادا کرنے میں مشغول رہنا اَولیٰ اور اہم ہے، (عالمگیری، جلد:1،ص:125)‘‘۔حضرت حسن بصری سے سورکعات پر مشتمل ’’صلوٰۃ الخیر‘‘ منقول ہے، بعض مفسرین نے بھی اسے نقل کیا ہے اور ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں بھی اس کا حوالہ موجود ہے۔
امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں:’’شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے، نادان سمجھتاہے نیک کام کررہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض سراسر فریب ہے، اِس کے قبول کی امید تو مفقود اور ُاس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض، خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجیے اور بالائی بیکار تحفے بھیجیے، وہ قابل ِقبول ہوں گے؟، خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے،(فتاویٰ رضویہ، جلد:10 ص:178،رضا فائونڈیشن، لاہور)‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اگر فرض چھوڑ کر سنت ونفل میں مشغول ہوگا، تو یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا‘‘۔ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی لکھتے ہیں:’’لازم اور ضروری چیز کا ترک اور جو ضروری نہیں اس کا اہتمام عقل ودانش کی رو سے غیر مفید ہے، کیونکہ عاقل کے نزدیک نفع کے حصول سے ضرر کا دور کرنا اہم ہے، (فُتُوْحُ الْغَیْب مع شرح عبدالحق الدہلوی، ص:273)‘‘۔
میں نے عام روش سے ہٹ کر یہ گزارشات اس لیے کی ہیں کہ دین میں ترجیحات اور اَحکامِ شریعت کی درجہ بندی کو بعض اوقات ہم نظرانداز کردیتے ہیں اور ایک طرح سے یہ عملی تضاد کی صورت بن جاتی ہے۔ فرائضِ شرعی وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کو ہر مسلمان سے مطلوب ہیں، یہ شریعت کا لازمی مطالبہ ہے ۔ نفلی عبادات بلاشبہ شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہیں اور قرآن وحدیث میں اُن کے بے شمار فضائل بھی آئے ہیں، لیکن نفلی عبادات میں یہ رغبت فرائض کے ترک کا سبب نہیں بننا چاہیے اور نہ انہیں فرائض کا متبادل سمجھنا چاہیے، البتہ انہیں فرائض کاتکملہ اور تتمّہ سمجھنا چاہیے ۔ہمارے ہاں بہت سے لوگ محافلِ نعت، میلاد النبی ﷺ اوراَعراس کی مجالسِ مبارکہ پر دل کھول کر رقم خرچ کرتے ہیں، لیکن زکوٰۃ جو فریضۂ الٰہی ہے ،اُس سے غافل رہتے ہیں، اس لیے شریعت کے مطابق ’’ اَلاَہَمّ فَالْاَہَمّ ‘‘کی رعایت ضروری ہے۔
بعض مساجد میں لوگ باجماعت صلوٰۃ التسبیح کے نوافل پڑھتے ہیں ، فقہائے کرام نے ان کے لیے تداعی کو مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اَولیٰ قرار دیا ہے اور بعض نے فرمایا کہ جو لوگ پڑھ رہے ہوں ، اُن کو منع نہ کیا جائے ،امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں:
’’تراویح کے سوا دیگر نوافل میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں، یعنی مکروہِ تنزیہی، جس کا حاصل خلافِ اَولیٰ ہے ،نہ کہ گناہ وحرام (جیساکہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاویٰ میں دی ہے)۔ مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے، بہت اکابر دین سے نوافل کی جماعت کی تداعی ثابت ہے اور عوام فعلِ خیر سے منع نہ کیے جائیں ، علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے ،درمختار میں ہے: ’’عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیا جائے، کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں اُن کی رغبت کم ہوتی ہے، بحوالہ’’ اَلْبَحْرُ الرَّائِقْ‘‘ ،اسی میں ہے: ’’عوام کو ان (ذوالحجہ کے) دس دنوں میں بازار میں تکبیرات پڑھنے سے منع نہ کیا جائے، اسی پر ہمارا عمل ہے، (بحر اورمجتبیٰ وغیرہ)‘‘۔حدیقہ ٔندیّہ میں ہے: ’’صلوٰۃالرغائب کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نماز وغیرہ بھی اسی قبیل سے ہیں، اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے ،مگر عوام میں یہ فتویٰ نہ دیا جائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پر لکھابھی ہے، عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے،(فتاویٰ رضویہ ،ج:7، ص: 465-466)‘‘۔
قیام الیل یعنی رات کے نوافل کی فضیلت قرآنِ کریم میں آئی ہے ،سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تہجد کا حکم فرمایا، نیز ’’سورۃ المُزَّمِّل‘‘ کا اکثر حصہ قیام الیل کے ذکر پر مشتمل ہے ، اسی میں فرمایا: ’’بے شک رات کے اٹھنے میں دل ودماغ اور زبان میں مکمل یکسوئی ہوتی ہے اور بات سیدھی نکلتی ہے، (المُزَّمِّل:6)‘‘، نیز فرمایا: ’’اور (متقی) رات کو بہت کم سوتے ہیں اور رات کے پچھلے پہر استغفار کرتے ہیں،(الذاریات:17-18)‘‘۔

View : 122

Leave a Comment

Your email address will not be published.