سچ یہ ہے(حصہ دوم)

                جہاں اسلام نے ضرورت کے وقت قرض لینے کا جواز رکھا ہے، وہاں صاحبِ استطاعت مقروض کے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کو ظلم سے تعبیر کیا ہے،حدیث پاک میں ہے:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:غنی کا (قرض کی ادائیگی میں)ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کا قرض کسی مال دار کے حوالے کیا جائے تو اس کو قبول کرنا چاہیے، (صحیح البخاری:2287)‘‘ اسے فقہی اصطلاح میں ’’حوالہ‘‘بھی کہتے ہیں ،آج کل ہمارے ہاں غیر قانونی طریقے یعنی ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھیجنے کو حوالہ کہا جاتا ہے۔

                قرض کا جواز یا تو شدیدضرورت کے لیے ہوتا ہے یا حکومت کے لیے قرض کے جواز کی صورت یہ ہے کہ ایسے منصوبے بنائے جائیں کہ جن کی تکمیل کے بعد اتنی آمدنی ہو کہ اس سے قرض بھی ادا کیا جاسکے اور قومی وملکی ضرورتوں کے لیے اضافی کمائی بھی ہوسکے۔ لیکن اگر ایکڑوں پر مشتمل ایوانِ صدر ، ایوانِ وزیر اعظم ، ایوانِ عدل ، وزرائے اعلیٰ ، گورنروں اور دیگر عُمّالِ حکومت کے عالی شان محلات بنائے جائیں ، تو اُن سے آمدنی تو کچھ نہیں ہوگی،لیکن اُن کی نگہداشت ومرمت پر مزید اخراجات آئیں گے اور ایسے عشرت کدے ہمارے وطنِ عزیز میں ہر بڑے شہر میں موجود ہیں ۔ برطانیہ ،جو ایک زمانے میں سپر پاور تھا، اُس کے وزیر اعظم کالندن میں 10ڈائوننگ اسٹریٹ پر آج بھی تین بیڈروم پر مشتمل مکان ہے اور آج بھی برطانیہ کا وزیر اعظم فٹ پاتھ پر اپنے مہمان کا استقبال کرتا ہے،علامہ محمد اقبال نے کہا ہے:

افلاک سے آتا ہے، نالوں کا جواب آخر

کرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر

مے خانۂ یورپ کے، دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سُرور اول، دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری

ہو جاتے ہیں سب دفتر، غرقِ مے ناب آخر

ترجمہ:’’آخرِ کار آسمانوں سے فریاد کا جواب آتا ہے، سب حجاب بالآخر اٹھ جاتے ہیں اور حقیقت آشکار ہوجاتی ہے، یورپ کے میخانۂ (قرض) کے دستور بھی عجیب ہیں، پہلے اُس کا نشہ چڑھاتے ہیں، پھر اس کا عادی بناتے ہیں اور پھر آخرِکار سب (قرض)کے نشے میں غرق ہوجاتے ہیں اور ہر عہد کے نادرشاہ کا دبدبہ اور تیمور کی شوکت کافور ہوجاتی ہے‘‘، یہاں ہم نے ’’مے‘‘( شراب)کو قرض سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ ہمارے رہنمائوں پر یہی نشہ سوار ہے ، ہمیں اگر قرض ملنے کا سلسلہ موقوف ہوجائے تو سارے نظام کے منہدم ہونے کا اندیشہ حقیقت بنتا ہوا نظر آتا ہے۔

                یہاں ’’نادِر‘‘اور ’’تیمور‘‘کوبلا تفریق اپنے آج اور کل کے حکمرانوں سے استعارہ سمجھ لیجیے، شعر کا مفہوم سمجھنا آسان ہوجائے گا، حزبِ اقتدار واختلاف پر مشتمل آج کے حکمرانوں اور سیاسی رہنمائوں کی فکری معراج یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کاکریڈٹ حاصل کرنے کا مقابلہ ہورہا ہے، حالانکہ ابھی اس کی صرف بشارت سنائی گئی ہے، ابھی وائٹ لسٹ میں ڈالا نہیں گیا۔ اسی طرح آئی ایم ایف کے ’’باب القرض‘‘ کے وا ہونے پر بھی کریڈٹ لیا جائے گا، آئی ایم ایف نے انجامِ کار قرض کا دروازہ کھولنا ہی ہے، کیونکہ عالمی ساہوکار اپنے شکار کو مارنا نہیں چاہتے، تڑپتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے حضور جبیں سائی کراکے لطف اٹھاتے ہیں ، سب کے پیچھے امریکہ اور اس کے اتحادی یعنی یہودو نصاریٰ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دار فرمادیا تھا: ’’اورجب تک تم یہود ونصاریٰ کی ملّت کے پیروکار نہیں بنو گے، وہ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے، (البقرہ:120)‘‘۔

                حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اقتصادی مسائل تقریباً ناقابلِ حل ہوتے جارہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستانی روپے کی بے توقیری حد سے بڑھ رہی ہے اورکسی حد پر رک جانے کے آثار ابھی نظر نہیں آرہے، مولانا الطاف حسین حالی نے کہا تھا:

ترے دریا کا کوئی، حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گر کر، نہ ابھرنا دیکھے

مانے نہ کبھی، کہ مَدّ ہے ہر جزر کے بعد

دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

                مدّوجزَر:سمندر کی موجوں کے اتار وچڑھائو کو کہتے ہیں،اسے انگریزی میں Tideکہتے ہیں،یعنی مسلمانوں کی عظمت کا سمندرجب سے زوال آشنا ہوا ہے،اُس کے جَزَر یعنی اُترنے کی کوئی حد نہیں ہے اور دوبارہ مدّیعنی ابھار کے آثار بظاہر مفقود ہیں، جنابِ سراج الحق نے کہا: ’’تین بڑی جماعتوں (پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور پی پی پی )نے ملک کو اس مقام تک پہنچایا ہے ،صرف جماعتِ اسلامی ہی اسے سنبھال سکتی ہے‘‘، اُن کے دعوے کے پہلے حصے کو توہم تسلیم کرلیتے ہیں، لیکن حضورِ والا! آپ اس وطنِ عزیز کو زوال سے نکال کر دوبارہ عروج کی طرف جو لے جائیں گے ، اُس کے لیے روڈ میپ ، خاکہ یا نقشہ آپ کے ذہن میں کیاہے، ایک طالب علم کی حیثیت سے ہم روزانہ ممکن حد تک اخبارات کے تجزیے اور کالم پڑھتے ہیں، لیکن کوئی امید افزا حل آج تک کسی نے پیش نہیں کیا، تنقید سب سے آسان ہے اور ہم سب اس میںمشغول رہتے ہیں،زوال کے بعد عروج ، تخریب کے بعد تعمیر اور ناکامی کے بعد کامیابی کا حقیقی اور قابلِ عمل فارمولا کسی کے پاس نہیں ہے۔

                علامہ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ سادہ مزاج آدمی تھے، اُن سے پوچھا جاتا :’’اگر آپ کو اقتدار ملے توبین الاقوامی ساہوکاروں کے قرض کا بوجھ کیسے اتاریں گے‘‘، وہ سادہ سے الفاظ میں جواب دیتے:’’ہم کہیں گے: سود ہمارے ہاں حرام ہے، لہٰذا ہم نے اصل زَر اور سود کی شکل میں آج تک جو پیسے دیے ہیں، انھیں جمع کر کے حساب کرلواور اس کے بعد جو آپ کا قرض بچے گا، ہم دَین دارہیں،جب گنجائش ہوگی ادا کردیں گے‘‘، اسے آج کے دانا ، فلسفی اورعلم الاقتصاد کی مہارت پر ناز کرنے والے لوگ مجذوب کی بَڑبھی کہ سکتے ہیں،لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پھر اُن کے پاس اس کے سوا اس مسئلے کا حل کیا ہے، مگر یہ حل بھی آسان نہیں ہے، اس کے لیے بھی ایک بار آپ کو دنیا سے کٹ کر اپنے وسائل پر جینا ہوگا ، ہر طرح کی پابندیوں اور دبائو کا سامنا کرنا ہوگا ، ناقابلِ تصور مشکلات سے گزرنا ہوگا ، لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: ’’بے شک تکلیف کے بعد آسانی ہے، بے شک تکلیف کے بعد آسانی ہے، (الشرح:5-6)‘‘۔  عربی کے علم النحو کا قاعدہ ہے: ’’اسمِ معرفہ(Proper Noun) کو اگر مکرر لایا جائے تو ثانی الذکر سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اگر   اسمِ نکِرہ (Common Noun)کو مکرر لایا جائے تو ثانی سے دوسرا مراد ہوتا ہے، تو یہاں ’’اَلْعُسْر‘‘معرفہ ہے اور ’’یُسْر‘‘ نکرہ ہے، یعنی عُسر ایک ہے تو’’یُسْر‘‘ دو ہیں، عربی شاعر نے کہا ہے:

اِذَ اشْتَدَّت بِکَ الْبَلْویٰ فَفَکِّرْ فِی اَلَمْ نَشْرَح

فَعُسْرٌ بَیْنَ یُسْرَیْنِ اِذَا فَکَّرْتَہُ فَافْرَحْ

                ترجمہ: ’’جب تم پر مصیبت شدید ہوجائے تو (دل کی تسلی کے لیے )سورۂ ’’ الم نشرح ‘‘میں غور کرو ،(تم یہ پائو گے کہ)ایک تکلیف کے بعد دو آسانیاں ہیں اور جب تم اس سورت میں غوروفکر کرلو (اور اس حقیقت کو سمجھ لو) تو خوش ہوجائو‘‘۔ لیکن یہ خوشی اور نتائج انھیں نصیب ہوسکتے ہیں ،جنھیں اسباب سے بڑھ کر ذاتِ مُسَبِّبُ الْاَسباب پر یقین ہو، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت وعطا پرراسخ  یقین ہواور اُن کا ایمان ہو کہ اگرچہ یہ عالَمِ اسباب ہے، مگر اللہ تعالیٰ جب چاہے مافوقَ الْاسباب بھی ہر مشکل سے نجات کی صورتیں مقدر فرمادیتا ہے،حدیث پاک میں ہے:

                ’’(مطلع بالکل صاف تھاکہ )ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا:(قحطِ آب سے) مویشی ہلاک ہوگئے ہیں اور راستے منقطع ہوگئے ہیں(یعنی سفر کے قابل نہیں رہے)، پھرآپ ﷺ نے دعافرمائی اور ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک ہم پر مسلسل بارانِ رحمت نازل ہوتی رہی، (اگلے جمعے )پھر وہ شخص آیا اورعرض کی:(یارسول اللہ!) (بارش کی کثرت سے) گھر منہدم ہوگئے ہیں ، راستے منقطع ہوگئے ہیں اور مویشی ہلاک ہوگئے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ اس بارش کو روک لے، نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی: اے اللہ! (اس بارش کو)ٹیلوں پر، پہاڑیوں پر، وادیوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر نازل فرما، پس (آپ کی دعا کی برکت سے آناً فاناً مطلع صاف ہوگیا اور)بارش مدینہ سے اس طرح منقطع ہوگئی جیسے (پہننے والا )کپڑا اتار دیتا ہے ، (بخاری:1016)‘‘۔

                اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(۱)’’تو نوح( علیہ السلام )نے کہا:بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے،وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغات (اُگائے گا)اور دریا بہائے گا،(نوح:10-11)‘‘، (۲) ’’اوروہی ہے جو اپنی رحمت (کی بارش)کے آگے آگے خوش خبری دینے والی ہوائوں کو بھیجتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ ہوائیں (پانی سے لدے ہوئے) بھاری بادل کو اٹھالیتی ہیں تو ہم اس کو کسی بنجر زمین کی طرف چلاد یتے ہیں، پھر ہم اس سے پانی نازل کرتے ہیں ، پھر ہم اس پانی سے ہرقسم کے پھل اگاتے ہیں،(الاعراف:57)‘‘،(۳) ’’اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تووہ بادل کو اٹھاتی ہیں،پھر اس بادل کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلادیتا ہے اور وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے، تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے پانی نکلتا ہے، پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن کے لیے چاہتا ہے، اُن تک وہ پانی پہنچا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں، (الروم:48)‘‘، (۴)’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر ان کو (باہم )جوڑ دیتا ہے، پھر ان کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے،پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان سے (رحمت کی) بارش ہوتی ہے اور اللہ آسمان سے پہاڑوں(کی مانندجمع شدہ بادلوں ) سے اولے نازل فرماتا ہے ،سو وہ جس پر چاہے ان اولوں کو برسادیتا ہے اور جس سے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے،(النور:43)‘‘۔

                اب بھی آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک، اسلامک ڈویلپمنٹ ،چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اورقطر سے ممکنہ امداد کے علاوہ صکوک بانڈ جاری کیے جانے کا پروگرام ہے، لیکن یہ صکوک بانڈ کسی نئے ڈیم یا صنعتی منصوبے کے لیے نہیں ہوں گے،جس سے کوئی معاشی سرگرمی پیدا ہو ، روزگار کے مواقع پیدا ہوںاور برآمدات میں اضافہ ہو، بلکہ یہ ریاست کی ملکیت میں پہلے سے موجود اثاثوں کے مقابل جاری ہوں گے، یعنی ان بانڈز سے ہونے والی زرِ مبادلہ کی آمدنی سے کوئی نئی معاشی سرگرمی شروع نہیںہوگی ، بلکہ یہ بھی قرض کی ایک بالواسطہ صورت ہے، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کا مقصد بھی زرِ مبادلہ کا حصول ہے، دعا ہے : اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور اقتصادی مشکلات اور معاشی غلامی سے نکلنے کی کوئی راہ اپنی قدرت سے مقدر فرمائے۔

View : 50

1 thought on “سچ یہ ہے(حصہ دوم)”

Leave a Comment

Your email address will not be published.