امر بالمعروف ونھی عن المنکَر(حصہ اول)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے خاتم النبیّٖن سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکی امت کو قرآنِ کریم میں ’’خَیْرُ الْاُمَمِ‘‘یعنی سب سے بہترین امت اور ’’اُمَّتِ وَسَط‘‘کا لقب عطا فرمایاہے،وَسَط کے معنی ہیں: ’’(عقیدہ وعمل میں)اعتدال اور توازن پر قائم رہنے والاجو غُلُوّ اور افراط وتفریط سے پاک ہو، مفسّرین کرام نے ’’وَسَط‘‘کا ایک معنی بہترین اور افضل امت بتایا ہے، اس اعتبار سے ’’خَیْرُ الْاُمَمْ‘‘ اور ’’وَسَطُ الْاُمَمْ‘‘ ہم معنی کلمات ہیں۔
قرآنِ کریم نے جہاں اس امت کو ’’خَیْرُ الْاُمَمْ‘‘ کے اعزاز سے نوازا ہے ،وہاںاس کے فرائض بھی بیان فرمائے ہیں، ارشاد فرمایا: ’’جو امتیں لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہیں، تم ان میں سب سے بہترین امت ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہواور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو، (آل عمران:110)‘‘۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پراللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم فرمادیا ،دین کی تکمیل اور اتمامِ نعمت کا اعلان فرمایااور آپ کوسلسلۂ نبوت ورسالت کا آخری تاجدار بنایا۔ آپ ﷺ سے پہلے یکے بعد دیگرے انبیائے کرام تشریف لاتے رہے اور راہِ راست سے بھٹکی ہوئی اپنی امتوں کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہے، درمیان میںانقطاعِ نبوت کے ادوار بھی آئے ، ان ادوار میں انبیائے کرام کی تعلیمات بھلادی گئیں ، اُن میں تحریف کردی گئی یا انھیں مسخ کردیا گیا ،تو دین وشریعت کو اپنی اصل شکل پر بحال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام بھیجے، مگر چونکہ آپ ﷺ کے بعدکسی نبی اور رسول کے آنے کا امکان ختم کردیا گیا، اس لیے تجدید واِحیاء اور ابلاغِ دین کی ذمے داری کو آپ کی امت کی طرف منتقل فرمادیا۔ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تمام حاضرین سے اس بات کا اقرارلیا کہ آپ ﷺ نے دین کو بکمال وتمام امت تک پہنچادیا ہے،پھر یہ فریضہ امت کو منتقل کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:(۱) ’’جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ دین کے اس پیغام کو اُن تک پہنچادیں جو یہاں پر موجود نہیں ہیں، (بخاری:104)‘‘، (۲)’’مجھ سے تم نے جو امانتِ دین حاصل کی ہے، اُسے دوسروں تک پہنچادو ،خواہ ایک آیت ہی ہو، (بخاری:3461)‘‘،(۳) ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سرے پر اس امت کے لیے ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا، جو اس کے دین کی تجدید کرے گا، ( ابودائود:4291)‘‘، اسی کو ’’تجدید واحیائے دین‘‘یعنی دین کو ہر قسم کی منکَرات وبدعات کی آمیزش سے پاک کرناکہتے ہیں، قرآنِ کریم نے اسے ’’امر بالمعروف‘‘اور ’’نھی عن المنکَر‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔
معروف کے لفظی معنی ہیں: ’’ جانا پہچانا‘‘، یعنی عقائد ،عبادات ، معاملات اور اخلاقیات سے متعلق ایسے امور جن سے فطرتِ سلیم مانوس ہے، انھیں قبول کرنے میں اُسے روحانی فرحت وانبساط محسوس ہوتی ہے ،کوئی انقباض اور تردُّد نہیں ہوتا، یہ قلبِ سلیم کا تقاضا ہوتا ہے اور’’ مُنکَر‘‘ کے معنی اجنبی اور نامانوس کے ہیں،یعنی جن امور سے اسلام نے منع فرمایا ہے،انسان کی فطرتِ سلیم اُن سے نفرت کرتی ہے ،سوائے اس کے کہ فطرت میں فساد پیدا ہوجائے ، شیطنت کا غلبہ ہوجائے تو تقاضے بدل جاتے ہیں۔
اسلام نے دعوتِ حق کا فریضہ بحیثیتِ مجموعی امتِ مسلمہ کو فرضِ کفایہ کے طور پر تفویض کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جوبھلائی کی طرف بلائیں ، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، یہی لوگ کامیاب ہیں، (آل عمران:104)‘‘۔ فرضِ کفایہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر ایک جماعت دعوتِ حق کے اس فریضے کے لیے اٹھ کھڑی ہو تو باقی لوگ بری الذمہ ہیں ، ایساہرگز نہیں ہے، ہر ایک اپنے دائرۂ کار واختیار کی حد تک جوابدہ رہے گا،حدیث پاک میں ہے:(۱) ’’عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہرشخص اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے،سربراہِ حکومت نگہبان ہے، اُس سے پوری رعیّت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ایک شخص اپنے خاندان کا نگہبان ہے اور اُس سے اُن کی بابت پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اُس سے اس کی بابت سوال ہوگا، ملازم اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اُس کی بابت سوال ہوگااور میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’’اور جو شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے ، اُس سے اس کی بابت سوال ہوگا ،(الغرض) ہر ایک کسی نہ کسی درجے میں نگہبان ہے اور اُس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا، (بخاری: 893)‘‘،(۲) ’’جو تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ سے روکے اوراگر یہ نہ کرسکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو دل میں اُسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، (مسلم:49)‘‘۔
اس حدیث کی شرح میں علمائے کرام نے کہاہے:’’ برائی کو طاقت سے روکناہر عہد کے حکمرانوں کی (درجہ بدرجہ )ذمے داری ہے، برائی کے خلاف زبان وقلم سے صدائے احتجاج بلند کرنا اہلِ علم کی ذمے داری ہے اور اگر کوئی اس کی بھی استطاعت نہ رکھے تو برائی کو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘، حدیث پاک میں اسے ’’اَضْعَفُ الْاِیْمَان‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس پر بعض حضرات سوال اٹھاتے ہیں: ’’جب کوئی شخص نہ طاقت سے برائی کو روکنے کی قدرت رکھتا ہے،نہ زبان سے صدائے احتجاج بلند کرسکتا ہے، تو اس میں اس کا کیا قصور ہے کہ اُس کے ایمان کادرجہ کمزور ترین بتایا گیا ہے،جبکہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے:’’اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی بات کے لیے جوابدہ نہیں بناتا، (البقرہ:286)‘‘۔
اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے :’’اس میں مختلف حالات کی طرف اشارہ ہے : کبھی حالات دعوتِ حق کے لیے سازگار ہوتے ہیں اور برائی کو ہاتھ سے روکا جاسکتا ہے ،کبھی ایسے ہوتے ہیں کہ برائی کوہاتھ سے تونہیں روکا جاسکتا، لیکن زبان وقلم سے صدائے احتجاج بلند کی جاسکتی ہے اورکبھی دین کے لیے حالات اتنے مشکل ہوجاتے ہیں کہ برائی کو نہ ہاتھ سے روکا جاسکتا ہے اور نہ زبان سے صدائے احتجاج بلند کی جاسکتی ہے،توایسے حالات میں لوگ اس بات کے مکلّف ہوں گے کہ دل سے برائی سے نفرت کریں اور اپنا دامن برائی سے بچائے رکھیں،ایسے حالات کو ’’اَضْعَفُ الْاِیْمَان‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے،الغرض یہ تین درجے (اقویٰ، اوسط اوراضعف)تین قسم کے حالات سے متعلق ہیں اور انسان اپنے حسبِ حال ہی دین کے لیے کردار ادا کرنے کا پابند ہے،حالات کسی کو اَضْعَفُ الْاِیْمَان کے درجے کو پہنچادیں تواس میں اس کا ذاتی قصور کوئی نہیں ہے۔
کلمۂ حق بلند کرنے کی قدرت کے باوجود لاتعلق رہنے والوں کے لیے ،خواہ وہ اپنی ذات میں پارسا ہی کیوں نہ ہوں، حدیث پاک میں وعید آئی ہے:’’حضرت جابر بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کو حکم فرماتا ہے : ’’فلاں بستی کو اس کے رہنے والوں سمیت الٹ دو ‘‘، جبرئیل امین عرض کرتے ہیں :’’ پروردگار! اس بستی میں تیرا فلاں (انتہائی متقی ) بندہ ہے ، جس نے کبھی پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی(اس کے بارے میں کیا حکم ہے)‘‘، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’ اُس سمیت اِس بستی کو الٹ دو ، کیونکہ میری ذات کی خاطر اس کا چہرہ کبھی بھی غضب ناک نہیں ہوا ،(شعب الایمان:7189)‘‘۔حدیث مبارک کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے دینِ اسلام کی حدود پامال ہوتی رہیں ، مُنکَرات کا چلن عام رہا، لیکن ان برائیوں کو روکنے کی عملی تدبیر تو دور کی بات ہے ، حدودِ الٰہی اور دینی اقدار کی پامالی پرکبھی اس کی جبین پر شکن بھی نہیں آئی ،وہ صرف اپنی عبادت اور ذکرواذکار میں مشغول رہا ، اپنے حال میں مست رہا، برائیوں کو مٹانے اور معاشرے کی اصلاح کے حوالے سے ایک مسلمان پر جو ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو ادا کرنے سے قطعی طور پر غافل اور لاتعلق رہا۔
الغرض ’’تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو‘‘کے فلسفے کی شریعت میں گنجائش نہیں ہے، ہر ایک حسبِ استطاعت اور حسبِ حال امر بالمعروف اور نھی عن المنکَر کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا پابند ہے، حدیث پاک میں ہے:
ابواُمیّہ شعبانی بیان کرتے ہیں: میں ابوثعلبہ خُشَنی کے پاس آیا اور میں نے اُن سے کہا: ’’اس آیت کا آپ کیا کرو گے‘‘، انہوں نے کہا: ’’کون سی آیت‘‘، میں نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے مومنو! اپنی فکر کرو ،اگر تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی،(المائدہ:105)‘‘،(سائل کو شبہ تھا کہ امت کی ذمے داری تو امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے، ہمیں توپوری انسانیت کو بچانے کی تدبیر کرنا ہے اورآیت کا ظاہری مفہوم یہ پیغام دے رہا ہے :’’تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو‘‘)، انہوں نے جواب دیا:’’ میں نے اس کی بابت سب سے زیادہ باخبر شخصیت یعنی رسول اللہ ﷺ سے پوچھاتھا تو آپ ﷺنے فرمایا:’’ بلکہ تم نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہوحتیٰ کہ ایسا وقت آجائے کہ تم دیکھوکہ بخیل کا حکم مانا جارہا ہے ، خواہشاتِ نفس کی پیروی کی جارہی ہے، دنیا کو دین پرترجیح دی جارہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھ رہا ہے (تو یہ مشکل وقت ہے ، پس ایسے وقت میں) اپنے دین کو بچانے کی فکر کرو اور عوام کو اُن کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ اب تمہارے پیچھے اتنے مشکل دن ہیں کہ گویا آگ کی چنگاری کو مٹھی میں لینا، ایسے ایام میں جو خیر پر قائم رہے گا، اُسے پچاس افراد کے برابر اجر ملے گاجو تم جیسا کام کریں ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: ایک روایت میں ہے: عرض کیا گیا: یارسول اللہ!ہمارے پچاس افراد کے برابر یا اُس دور کے پچاس افراد کے برابر(اجر ملے گا)، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پچاس افراد کے برابر، (سنن ترمذی:3058)‘‘۔اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ممکن ہو دعوتِ حق کے فریضے کو ادا کرتے رہنا چاہیے، سوائے اس کے کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ دعوتِ حق کا فریضہ ادا کرنا عملًاناممکن یا مشکل ترین ہوجائے،پس ایسے حالات میں اپنے دین کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے ،کیونکہ جب حالات بندے کے بس سے باہر ہوجائیں تو اُس سے اُن کے بارے میں جواب طلبی نہیں ہوگی۔(جاری ہے۔۔)

View : 117

Leave a Comment

Your email address will not be published.