بند لفافے میں کیا ہے!

(حصہ اول)

                سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل مقتدرہ کے اتفاقِ رائے سے تحریک لبیک اور حکومتِ پاکستان کے درمیان جو معاہدہ ہوا ، اس پر پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا ،سب کی نبضیں رکی ہوئی تھیںکہ خدانخواستہ کوئی انہونی نہ ہوجائے، اللہ نے کرم فرمایا اور کوئی انہونی اور ’’ناشُدنی‘‘ نہیں ہوئی ۔لیکن مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر لبرل عناصرنے شدّومدّ کے ساتھ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا،شاید ان کی خواہش یہ تھی کہ تحریک لبیک پاکستان میں جو جانثارانِ مصطفی ہیں، انھیں معاذ اللہ! گولیوں سے بھون کر رکھ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ وہ اپنی ان خواہشات میں ناکام رہے اور معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا ، اب لے دے کے یہ سوال ان کو پریشان کیے جارہا ہے :معاہدے کے ’’بند لفافے میں کیا ہے‘‘، ان کی خدمت میں گزارش ہے :’’بند لفافے میں پاکستان کے لیے امن ہے ، سلامتی ہے ، خیر ہے ،صلاح ہے اور فلاح ہے، اس میں جو کچھ بھی ہے، وہ آئین وقانون کے دائرے میں ہے‘‘۔ ہم نے کہا تھا: ’’جو طے پایا ہے، وہ آپ کو عملی شکل میں نظر آئے گا اور الحمد للہ! نظر آرہا ہے‘‘، یہ اُن کے لیے مزید پریشانی کا باعث ہے، اس کے جتنے بھی پرت کھولیں گے ، اس سے آپ کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے ۔

                 حیرت ہے کہ اس بات کو پاکستانی تاریخ کا عجوبہ قرار دیا جارہا ہے کہ معاہدہ خفیہ کیوں رکھا گیا ہے،پس ہمارا سوال ہے: ’’نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ملک کی بَرّی وبحری حدود،فضائی اڈوں اورراہداری سمیت بہت کچھ امریکہ کے حوالے کردیا تھا، کیا کوئی تحریری دستاویز آج تک قوم کے سامنے پیش کی گئی ہے کہ اس کی شرائط کیا تھیں اوراس ڈیل میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اُس پر ہمارا لبرل میڈیا شوروغوغا کیوں نہیں کرتا، بلیک واٹر کے خونی درندوں کو مسلّمہ عالمی سفارتی روایات کے برعکس دبئی میں سینکڑوں ویزے جاری کیے گئے، اس کا معاہدہ یا اُن جاری کردہ ویزوں کی تعداد یا اُن ایجنٹوں کی واپسی کا ریکارڈ آج بھی کوئی ہمیں بتادے، لیکن ’’ہرچہ از امریکہ آمدنکوست‘‘، یعنی امریکی غلامی کی ہر ادا اور ہر عمل ہمارے لبرلز کو محبوب ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد نادیدہ معاہدے کے تحت جن لوگوں کو بیچ کر ڈالر کمائے گئے ، کوئی آج بھی ہمیں اُن کے نام ،تعداد اور وصول کردہ رقم کا میزان اور مَصرف بتادے، الغرض میڈیا کی ’’اصول پسندی‘‘ کی حقیقت ہم پر خوب عیاں ہے ، پاکستان کی پوری تاریخ ہمیں الحمد للہ ! ازبر ہے ،یہ تیر صرف دینی طبقات پر برسانے کے لیے ہیں،کسی نے کہا ہے:

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے، تو شکایت ہوگی

                2014 کے حکومت مخالف دھرنوں میں پولس افسران وردی اتار کر یا تلاشی دے کر وہاں سے گزرتے تھے،معروف تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی ایک چینل پر بتارہے تھے کہ اُن دھرنوں میں بھی چار پولس والے مارے گئے تھے ، ایس ایس پی کو پکڑ کر مارا تھا، اسی طرح ملتان میں پی ٹی آئی کے جلسے میں کئی افراد جان سے گئے تھے، انسانیت کا کوئی ’’ہمدرد‘‘اُن کا مرثیہ پڑھنے کے لیے آج بھی تیار نہیں ہے،اسی طرح ساہیوال میں برسرِ عام بچوں کے سامنے ان کے باپ کو مارا گیا، کیا آج تک اُن کو انصاف ملا، اب کوئی ان کے پسماندگان کو یاد کر رہا ہے۔

                ایک غلط تعبیر یہ کی جارہی ہے کہ کسی ملک کے سفیر کو واپس بھیجنا سفارتی تعلقات منقطع کرنے مترادف ہے ، یہ وزراء اور میڈیا والوں کا مغالطہ ہے، آج بھی صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت سے اور بھارت نے پاکستان سے اپنے سفیر کو واپس بلایا ہوا ہے، لیکن سفارتی تعلقات بدستور قائم ہیں،بھارت اور پاکستان میں تین جنگیں ہوئیں، لیکن سفارتی تعلقات قائم رہے، الغرض دوسرے ملک کے سفیر کو واپس بھیجنا یا اپنے سفیر کو دوسرے ملک سے واپس بلانا یہ ناراضی کا علامتی اظہار ہوتا ہے، امریکہ نے جب اوکس معاہدہ کیا تو فرانس نے نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ سے اپنا سفیر وقتی طور پر واپس بلایا، یہ بھی امریکہ سے ناراضی کا علامتی اظہار تھا۔ الغرض کسی ملک کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ ایسا ’’سیاسی کفر‘‘نہیں ہے جو پاکستان میں پہلی بار ہوا ہو، ماضی میں بھی ایسے مطالبات ہوتے رہے ہیں، بلکہ دیواروں پربھی نقش ہوتے رہے ہیں، لیکن کسی نے اس کی ایسی تعبیر نہیں کی جو آج تحریک لبیک کے مطالبے کے حوالے سے کی جارہی ہے، امریکہ اور روس ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کرتے رہے ہیں ،لیکن سفارتی تعلقات بدستور قائم رہے۔

                 بعض کرم فرماتحریکِ لبیک کے ساتھ حکومتی معاہدے کو ناکام بنانے کی ارادی کوشش کے لیے دودھاری خنجر استعمال کر رہے ہیں،ایک طرف یہ کہتے ہیں :’’حکومت کی رِٹ ختم ہوگئی ،حکومت کو ہزیمت ہوگئی ، حکومت نے کمزور پوزیشن کے ساتھ معاہدہ کیا، وغیرہ‘‘ ،یہ اس لیے کیا جارہا ہے کہ حکومت کوجذبات میں لاکر معاہدہ شکنی پر مجبور کیا جائے اور دوسری طرف جب میں نے یہ کہا:’’شیخ رشید فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے غلط بیانی کر رہے ہیں‘‘، تو میڈیا نے اسے اس طرح تعبیر کیا کہ گویاتحریک لبیک اپنے بنیادی مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے، یہ حربہ دراصل تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو مشتعل کرنے اورچڑانے کے لیے تھاتاکہ وہ اپنی قیادت سے بدگمان ہوں، الحمد للہ! یہ حربہ بھی ناکام ہوا ۔

                فارسی کا مقولہ ہے:(ترجمہ):’’یہ وہ گناہ ہے جو آپ کے ہاں بھی سرزد ہوتا رہتا ہے‘‘، خود حکومت تحریک لبیک سے ماضی میں یہ معاہدہ کرچکی ہے ، تو سوال یہ ہے کہ اُس وقت اس سے حکومت کی مراد کیا تھی،اس نے جو معاہدہ کیا تھا،وہ ہوش کے عالَم میں تھا یاعالَمِ مدہوشی میں، پس ان کے درمیان جو آخری معاہدہ طے پایا تھا، اس میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا تھا، کیا یہ آئینی وقانونی طریقۂ کار نہیں ہے، پارلیمنٹ کا فیصلہ مثبت بھی آسکتا تھا اور منفی بھی، لیکن طریقۂ کار کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

                ہماری تمنا ہے کہ کسی بھی صورتِ حال میں ملک میں کسی کا ناحق خون نہ بہے،خواہ وہ سرکاری منصب دار ہو،کسی جماعت کا کارکن ہویاغیر مسلم ہو، لیکن قوموں کی تاریخ میں ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ پولس کے شہداء کے خاندانوں سے ہمیں بھی ہمدردی ہے ، حکومت یقینازرِ اعانت بھی دے گی اور ان کی کفالت بھی کرے گی ۔ اب میڈیا پولس کے شہداء کے خاندانوں کے احوال تو بتارہا ہے، لیکن تحریک کے درجنوں شہداء کا نام بھی نہیں لیا جارہا ۔کسی ریلی یا جلوس کو روکنے کے لیے یا امن وامان قائم کرنے کے لیے سلامتی کے اداروں کو اگر ناگزیر طور پربھی گولی چلانی پڑے ، تو مسلّمہ روایت ہے کہ ہوائی فائر کیا جاتا ہے یا جسم کے نچلے حصے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ رک جائیں اور ان کی جان بھی سلامت رہے ، جسم کے بالائی حصے پرگولی نہیں داغی جاتی کہ جان چلی جائے، لیکن درجنوں شہداء کو سینے اور سروں پر گولی مار کر شہید کیا گیا ہے، کیا میڈیا نے کبھی یہ مناظر بھی دکھائے ہیں یا اُن کے پسماندگان کو بھی ٹی وی پر بلاکر ان کا دکھ دردقوم کے سامنے پیش کیا ہے ، پس رویہ منصفانہ ہونا چاہیے ۔احترام کے ساتھ عرض ہے: آپ لبرل جب ’’سُرخے‘‘ ہوا کرتے تھے ، تو آپ کا نعرہ یہ ہوتا تھا: ’’لہو کا رنگ سرخ ہے، لہو کا رنگ ایک ہے ‘‘، لیکن اب تحریک لبیک کے شہداء کے لہو کا رنگ شاید آپ کی نظر میں دوسروں سے مختلف ہے۔ ایک سوال یہ کیا جارہا ہے کہ پولس کے مقتولین کے مجرموں کا حساب کون لے گا۔

                اچھا ہے، سب کا حساب صاف شفاف طریقے سے ہوجائے ، تحریک لبیک کے جن کارکنوں کے سینوں اور سروں پر براہِ راست فائر کر کے شہید کیا گیا ہے، وہ گولیاں کہاں سے چلیں ، کس نے چلائیں اور کس کے حکم سے چلیں ،نیزاحتجاجی مظاہرین کے سینوں اور سروں کو براہِ راست نشانہ بناکرگولی داغنا یہ آئین وقانون میں کہاں لکھا ہے،اس کا بھی فیصلہ ہوجائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ پولس کو قتل کرنے والے یا ظلم کرنے والے کون تھے، یہ منصوبہ بندی کے ساتھ ریلی میںشامل کیے گئے ’’ گھس بیٹھیے‘‘ تھے یا تحریک کے کارکن تھے،تاحال کوئی غیر جانبدارانہ تحقیق سامنے نہیں آئی۔

                 ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ قاتلوں کو معاف کیوں کردیاگیا۔ اس سلسلے میں رحمۃ للعالمین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ وقُدوہ ہمارے سامنے ہے،غزوۂ اُحد میں آپ ﷺکے محبوب چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا قاتل وحشی تو معلوم تھا، حضرت خالد بن ولید اُس دستے میں تھے ، جس نے ’’وادی عینین‘‘پر فائزپچاس کے لگ بھگ حفاظتی دستے کو اچانک حملہ کر کے شہید کردیا تھا ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسلام قبول کرنے پر سب کو معاف فرمایا اور انھیں صحابیت کے شرف سے مشرف ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔خاتم النبیّٖن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پرقصاص اور انتقام پر قدرت کے باوجود عام معافی کا اعلان فرمایا تھا، یہ انسانیت کی پوری تاریخ میں آپ کے امتیازات میں سے ہے۔یہاں تو ’’سقوطِ مشرقی پاکستان‘‘ کے ذمے داروں کا نہ احتساب ہوا ، نہ اُن کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا اور نہ ہمارے ان کرم فرمائوں کے پیٹ میں اس کے لیے مروڑ اٹھتے ہیں، یہ صرف اور صرف مذہبی سیاسی تنظیم کے کارکنوں کو نشانِ عبرت بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی غالب تقدیر سے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیااور ملک ایک تباہ کن صورتِ حال سے دوچار ہونے سے بچ گیااور اب ٹی ٹی پی کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور معاہدے کے بعد یہ تبصرے خود دم توڑ جائیں گے۔(جاری ہے۔۔۔)

View : 195

Leave a Comment

Your email address will not be published.