امریکا کی عالمی رسوائی…(حصہ اول)

امریکا اور اہلِ مغرب اپنے آپ کوعالَم انسانیت کے لیے جمہوری اقداراور انسانی حقوق کے آئیڈیل اور علمبردارقراردیتے ہیں، لیکن آج دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریہ امریکا برسر عام رسوا ہورہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہیں اورسرعام کہہ رہے ہیں: ”انتخابات چوری ہوگئے ہیں، ہم معاف نہیں کریں گے اور ہم ان انتخابات کو تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ 3 نومبر سے آج تک انہوں نے اپنی شکست کودل سے تسلیم نہیں کیا اور اپنے پیروکاروں اور ریپبلکن پارٹی کو صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول نہ کرنے اور ردّ کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے 2016ء کا صدارتی انتخاب سفید فام نسلی عصبیت کو ابھار کر جیتا اوروہ آج تک اس عصبیت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”ہم معاف نہیں کریں گے، ہم کبھی انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے، ہم انتخابات کی چوری روکیں گے، ہم پنسلوینیا ایوینیو جائیں گے، ہم کیپٹل ہل جائیں گے، ہم کمزور ریپبلکنزکو جرأت سکھائیں گے، امریکا کو واپس حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔صدارتی انتخابا ت کے لیے امریکا کا انتخابی نظام انتہائی پیچیدہ ہے، اس پر ہم پہلے بھی ایک کالم لکھ چکے ہیں، یہ براہِ راست اور بالواسطہ انتخابی نظام کاملغوبہ ہے، اس کے کئی مراحل ہیں اور آخری مرحلہ کانگریس سے الیکٹورل ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی توثیق کا ہے، جس کی کانگریس سے 6 جنوری 2021ء کوکیپٹل ہل پر حملے کے بعدبمشکل توثیق ہوئی۔ ٹرمپ ایری زونا، پنسلوینیا اور جارجیا کے انتخابی نتائج کو متنازع قرار دیتے رہے ہیں، انہوں نے اپنے حامیوں کو اکسایا اورانہوں نے کیپٹل ہل پر چڑھائی کردی اور توڑپھوڑ کی۔ واضح رہے کہ کیپٹل ہل میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کے اجلاس ہوتے ہیں اور ان کے دفاتر ہیں، یہ امریکی جمہوریت کے چہرے پر کلنک کا ٹیکا ہے اور ایسا سیاہ داغ ہے جو کبھی مٹایا نہ جاسکے گا، بلکہ خود ٹرمپ نے کہا: ”آج کے دن کو بھلایا نہیں جاسکے گا‘‘، ابتدامیں انہوں نے بلوائیوں کو شہ دی، ان کے موقف اور طرزِ عمل کو درست قرار دیا، لیکن پھرشدیددبائو آنے کے بعد انہوں نے یوٹرن لیااوراس کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ”حملہ آورقانونی انجام سے بچ نہیں سکیں گے‘‘۔سابق امریکی صدور، عالمی رہنمائوں اورامریکی زعمانے کیپٹل ہل پرحملے کی شدید مذمت کی، بش نے کہا: ”انتخابی نتائج کو بدلنا امریکا میں نہیں‘ بنانا ریپبلک میں ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی جمہوریت آئی سی یو میں ہے اور سسکیاں لے رہی ہے‘‘۔ اوباما نے کہا: ”یہ ذلّت اورشرم کا مقام ہے، ریپبلکن پارٹی اوردائیں بازو کا میڈیااس کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے، آج کے تشددکو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی، منصبِ صدارت پر بیٹھے ہوئے شخص نے بے بنیاداورجھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کو قانونی انتخابی نتائج کے خلاف ابھارا‘‘۔ کلنٹن نے کہا: ”آج ہمارے کیپٹل، ہمارے دستوراور ہمارے ملک کی توہین ہوئی ہے، یہ ٹرمپ کے چار سالہ زہرآلودبیانات کا منطقی نتیجہ تھا‘‘۔ جمی کارٹرنے کہا: ”یہ قومی المیہ ہے، یہ شرم ناک حرکت ہماری قوم کی نمائندگی نہیں کرتی‘‘۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا: ”ہم اس ذلّت آمیز منظر کی مذمت کرتے ہیں، امریکا دنیا بھر میں جمہوریت کی حمایت کے لیے کمر بستہ ہوتا ہے، اب یہ لازمی ہے کہ پُرامن اور منظم انتقال اقتدار ہو‘‘۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا: ”امریکن کانگریس پر حملہ کرنے والے حملہ آور باغی تھے، میں ان مناظر کو دیکھ کر شدید غصے اور غم کی کیفیت میں ہوں، مجھے افسوس ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ وہ بدستور امریکی انتخابات کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر رہے ہیں‘‘۔ چین نے اس موقع کو قرض چکانے کے لیے استعمال کرتے ہوئے کہا: ”امریکی انتخابی نتائج کو تبدیل کرانے کے لیے کیپٹل ہل پرحملہ آوروں اور گزشتہ سال ہانگ کانگ میں قانون ساز کونسل پر چڑھائی کرنے والے مظاہرین میں مماثلت ہے‘‘، بلکہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہواچُن ینگ نے کہا: ”ہانگ کانگ کے مظاہرے اس سے زیادہ سنگین تھے، مگر وہاں ایک بھی احتجاج کرنے والا ہلاک نہیں ہوا‘‘۔ واضح رہے کہ امریکا اور اہلِ مغرب ہانگ کانگ مظاہرین کی حمایت کر رہے تھے اور انہیں شہ دے رہے تھے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروف نے کہا: ”امریکا کا انتخابی نظام فرسودہ ہے، یہ موجودہ جمہوری معیارات پر پورا نہیں اترتا، کئی طرح کی خلاف ورزیوں کو جنم دیتا ہے اور امریکی میڈیا کی سیاست زدگی واشنگٹن کے فسادات کا سبب ہے‘‘۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا: ”جب دنیا کی قدیم ترین جمہوریت میں رخصت ہونے والے صدر کے حامی مسلح ہوکر قانون کے تحت منعقدہ انتخابات کو چیلنج کریں گے، تو ”ایک فرد ایک ووٹ‘‘ کے عالمگیر نظریے کی بے توقیری ہوگی۔ جو کچھ واشنگٹن ڈی سی میں ہوا، یقینا یہ امریکی اقدار کے خلاف ہے، ہم اپنی اورامریکی جمہوریت کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔ یورپین کونسل کے صدر چارلس مائیکل نے کہا: ”امریکی کانگریس جمہوریت کا عبادت خانہ ہے، آج رات واشنگٹن ڈی سی میں جو منظر دیکھا، اس سے شدید صدمہ ہوا، ہمیں یقین ہے کہ امریکا میں پُرامن انتقالِ اقتدار کو یقینی بنایا جائے گا‘‘۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا: ”کیپٹل ہل واشنگٹن میں جو منظر دیکھا، اس سے غمزدہ ہوگیاہوں‘‘۔ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا: ”جمہوریت پر حملے کی وجہ سے انتہائی غمزدہ اور پریشان ہوگیا، تشدّد کبھی بھی عوام کے فیصلے کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوگا، امریکا میں جمہوریت ہر قیمت قائم رہنی چاہیے اور یہ رہے گی‘‘۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے ٹویٹ کیا: ”جمہوریت، عوام کے ووٹ دینے کا حق ہے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کے فیصلے کو پُرامن طریقے سے تسلیم کیا جائے، اسے کسی ہجوم کے ذریعے کالعدم نہ کیا جائے‘‘۔ وینزویلا کی حکومت، جسے امریکا قانونی تسلیم نہیں کرتا، نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ”اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے امریکیوں نے جو حالات دوسرے ملکوں میں پیداکیے، آج وہ خودانہی افسوسناک حالات سے گزر رہے ہیں، یعنی یہ مکافاتِ عمل ہے‘‘۔ 2006ء میں فجی میں انقلاب لانے والے وزیر اعظم نے کہا: ”آج ہم نے جو مناظر واشنگٹن میں دیکھے، یہ دنیا بھر میں جمہوریتوں کے لیے خطرہ ہیں، سچی اور اصلی جمہوریت ایک قیمتی دولت ہے، جوکسی بھی قوم کو خیرات میں نہیں ملتی، ہمیں یقین ہے کہ امریکا میں یہ بدصورت باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگا‘‘۔ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا: ”آج امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو تشدد پر اُکسایا‘‘۔ سابق امریکی خاتونِ اول میشل اوباما نے کہا:”امریکی مرکزِ اقتدار کی بے حرمتی کی گئی، حیرت ہے دسیوں لاکھوں امریکیوں نے ایک ایسے شخص کو ووٹ دیاجواپنی اَنا کی خاطر ہماری جمہوریت کو شعلوں کی نذر کرنا چاہتا ہے‘‘۔ دارالعوام کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا: ”ٹرمپ کو ایوانِ صدر سے نکال دینا چاہیے‘‘۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے نائب صدر سے کہا: ”دستور کی پچیسویں ترمیم کے تحت ٹرمپ کو صدارت سے نکال دیں‘‘۔ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن لیڈرمچ مکونل نے ایوان میں کھڑے ہوکر کہا: ”اگر آج ہم نے اپنے ووٹرز، عدالتوں اور ریاستوں کے انتخابی فیصلوں کو ردّ کردیا تو ہم اپنی جمہوریہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے، اگر آج ہم نے ایسا کیا تو آئندہ عوام کبھی بھی انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا: ”کل ہم نے امریکا میں جوکچھ دیکھا، اس سے واضح ہوگیا گیا کہ مغربی جمہوریت تباہ ہوچکی ہے‘‘۔ سابق اٹارنی جنرل بل برنے کہا: ”ٹرمپ کا اقدام اپنے منصب اور حامیوں سے دھوکا تھا‘‘۔ جو بائیڈن نے کہا: ”میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ٹی وی پر آئیں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین کا تحفظ کریں، کیپٹل ہل میں گھس جانا، کھڑکیاں توڑنا، امریکی سینیٹ کے دفاتر پر قبضہ کرنا اور منتخب اراکین کے لیے خطرہ بننا، احتجاج نہیں، بغاوت ہے‘‘۔ جو بائیڈن کے اس پیغام کے بعد ٹویٹر پر اپنے ایک وڈیو پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخاب چوری کیے جانے کا الزام دہراتے ہوئے کیپٹل ہل کے اندر اور باہر موجود اپنے حامی مظاہرین سے اپنے گھروں کو لوٹ جانے کا مطالبہ کیا۔ اپنے وڈیو پیغام میں انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا :”مجھے معلوم ہے آپ تکلیف میں ہیں، آپ کو دکھ ہوا ہے، ہم سے الیکشن چرایا گیا ہے، یہ ہر کوئی جانتا ہے، خاص طور پر دوسری جانب والے، لیکن اب آپ کو گھر جانا ہو گا، ہمیں امن حاصل کرنا ہو گا، ہمیں آئین اور قانون نافذ کرنا ہو گا‘‘۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا: ”میں نے عمارت کو محفوظ بنانے اور گھسنے والوں کو بے دخل کرنے کے لیے فوری طور پر نیشنل گارڈز اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو تعینات کیا، میری مہم نے انتخابی نتائج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر قانونی راستہ اپنانے کی بھر پور کوشش کی۔ میرا واحد مقصد ووٹوں کی سا لمیت کو یقینی بنانا تھا، 20 جنوری کو ایک نئی انتظامیہ کی شروعات ہوگی، میری توجہ اب اقتدار کی منظم اور بلا رکاوٹ تبدیلی کو یقینی بنانے پر ہے‘‘۔ کیپٹل ہل پر حملوں کی تاریخ :1814ء میں برطانوی فوج نے کیپٹل ہل کی بلڈنگ کو جلانے کی کوشش کی تھی، حملہ آوروں نے پہلے بلڈنگ کو لوٹا اور پھر شمالی اور جنوبی حصوں میں آگ لگادی، 1915ء میں ہارڈورڈیونیورسٹی کے جرمن نژاد پروفیسر ایرک میوٹرنے جرمنی کے دشمنوں کوامریکی اسلحہ بیچنے پراحتجاج کرنے کے لیے کیپٹل ہل میں بارودرکھاتھا، 1954ء میں پورٹوریکوکے قوم پرست گروپ نے کیپٹل ہل پر حملہ کیا، اس میں کانگریس کے پانچ ارکان زخمی ہوئے تھے، 1971ء میں بائیں بازوکے شدت پسندوں نے جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف کیپٹل ہل کے واش رو م میں بم رکھنے کی ذمہ داری قبول کی تھی، حالیہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، باون افرادگرفتارہوئے اورتحقیقات کاسلسلہ جاری ہے۔ دارالعوام کی ایک قرارداد کے ذریعے نائب صدرمائیک پینس سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ پچیسیویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوے ٹرمپ کو صدارت سے فارغ کردیں، مگرانہوں نے دارالعوام کی سپیکر کولکھا: ”میرے نزدیک پچیسیویں آئینی ترمیم ہمارے آئین کی روح کے منافی ہے، اس سے غلط روایت قائم ہوگی، میں یقین دلاتاہوں کہ انتقالِ اقتدارنیک نیتی سے ہوگا، میں موجودہ صورتحال میں سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنوں گا‘‘۔ دارالعوام میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی جاچکی ہے کہ ٹرمپ کا ایوانِ صدرمیں مزیدرہناقومی سلامتی، جمہوریت اورآئین کے لیے خطرے کا باعث ہے، وائٹ ہائوس کے ذرائع نے کہاہے کہ ممکنہ طورپربیس ریپبلکن ارکان کانگریس قراردادکے حق میں ووٹ دیں گے۔ ہم نے یہ جائزہ اس لیے پیش کیا ہے تاکہ ہمارے قارئین کومعلوم ہوکہ آج روس، چین، وینزویلااورفجی کے رہنما بھی امریکا کوجمہوریت کادرس دے رہے ہیں، امریکا کے لیے اس سے بڑھ کر رسوائی اورکیاہوگی، نیز وہ یہ بھی باور کرارہے ہیں: ”اے بادِصبا!ایں ہمہ آوردئہ تست‘‘، یعنی تم نے جوکچھ دوسروں کے لیے بویاتھا، آج اس کی تیارفصل تمہیں خودکاٹنا پڑرہی ہے۔ (جاری)

View : 123

1 thought on “امریکا کی عالمی رسوائی…(حصہ اول)”

  1. انصر اقبال اسلم

    ماشاءاللہ!⁦❤️
    آپ کے کالموں سے آگہی حاصل ہوتی ہے ۔خدا آپ کو عمر خضر عطا فرمائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.